انوارالعلوم (جلد 20) — Page 6
انوار العلوم جلد ۲۰ ۶ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہ تھے پیٹتے تھے اس لئے کہ ہم ٹھیک طور پر تلفظ کیوں ادا نہیں کرتے۔ہم پنجابی لوگوں کا لہجہ ہی ایسا ہے کہ ہم عربوں کی طرح عربی کے الفاظ ادا نہیں کر سکتے۔لاہور میں ایک میاں چنو رہا کرتے تھے وہ بعد میں چکڑالوی ہو گئے ان کے پاس ایک عرب آیا اور وہ اُس کو لے کر قادیان پہنچے ان دنوں صاحبزادہ عبداللطیف صاحب شہید جو علاقہ خوست کے ایک بہت بڑے بزرگ تھے یہاں تک کہ امیر امان اللہ خاں کے دادا حبیب اللہ خاں کی رسم تاجپوشی بھی انہی سے کروائی گئی تھی ، وہ بھی قادیان میں آئے ہوئے تھے۔وہ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے اور باتیں ہو رہی تھیں کہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے دوتین دفعہ ض کا استعمال کیا۔آپ کا لہجہ اگر چہ درست تھا لیکن لکھنو کے آدمی جیسے اسے ادا کرتے ہیں آپ ویسے ادا نہیں کر سکتے تھے دو چار دفعہ آپ نے یہ لفظ استعمال کیا تو وہ عرب جو کئی سال سے کی لکھنو میں رہتا تھا اور اردو بولتا تھا اس نے کہا آپ کو کس نے مسیح موعود بنایا ہے؟ آپ کو تو ض بھی صحیح طور پر ادا کرنا نہیں آتا۔صاحبزادہ صاحب بڑے عالم تھے اور آپ کو معلوم تھا کہ اس کی کیا حقیقت ہے۔وہ غصہ میں آگئے اور اسے مارنے کے لئے اپنا ہاتھ اُٹھایا۔مولوی عبد الکریم صاحب نے دیکھ لیا۔آپ نے اسے چھڑانے کی کوشش کی۔آپ چونکہ پٹھان اور طاقتور تھے اور مولوی عبد الکریم صاحب اکیلے اس میں کامیاب نہیں ہو سکتے تھے اس لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے ان کا دوسرا ہاتھ پکڑ لیا کیونکہ آپ کا خیال تھا کہ آپ اسے مار بیٹھیں گے۔اب دیکھو اس عرب نے یہ کیسی لغو حرکت کی۔ہر ملک کا الگ الگ لہجہ ہوتا ہے۔عرب خود کہتے ہیں کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں ، ہندوستانی اسے ادا نہیں کر سکتے۔ہندوستان میں ض کو قریب ترین ادا کرنے والوں میں سے ایک میں ہوں لیکن میں بھی یہ نہیں کہتا کہ میں اسے بالکل صحیح ادا کرتا ہوں۔قریب ترین ہی ادا کرتا ہوں۔ہندوستانی لوگ اسے دواد یا ضاد پڑھتے ہیں لیکن اس کے مخارج اور ہیں پس جب عرب خود کہتا ہے کہ ہم ناطقین بالضاد ہیں اور کوئی اسے صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو پھر اعتراض کی بات ہی کیا ہوئی۔جرمن لوگوں کو لے لو وہ گڑ اور گاڈ کے لفظوں کو ادا نہیں کر سکتے۔وہ یا گڑ کہیں گے یا گوٹھ کہیں گے۔پس میں یہ تو نہیں کہتا کہ ہم ان الفاظ کو ادا کرنے کا اہتمام کریں جن کے ادا کرنے کے ہم قابل نہیں یہ تو محض