انوارالعلوم (جلد 20) — Page 161
انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۶۱ دیباچہ تفسیر القرآن مٹی اور لوہے کے مشترک بنے ہوئے تھے۔لیکن وہ یورپین قوم بعض مشرقی اقوام کو فتح کر کے ایک شہنشاہیت کی صورت اختیار کرلے گی اور جیسا کہ شہنشاہیوں کا قاعدہ ہے وہ اپنی وسعت اور سامانوں کی فراہمی کے لحاظ سے قوی ہوتی ہیں لیکن غیر قوموں کے اشتراک کی وجہ سے اُن میں ضعف بھی پیدا ہو جاتا ہے وہ حکومت اپنے آخری زمانہ میں بوجہ غیر قوموں کی شمولیت کے کمزوری کی طرف مائل ہو جائے گی۔اس کے بعد لکھا ہے:۔ایک پتھر بغیر اس کے کوئی ہاتھ سے کاٹ کے نکالے آپ سے آپ نکلا جو اُس شکل کے پاؤں پر جو لو ہے اور مٹی کے تھے لگا اور انہیں ٹکڑے ٹکڑے کیا تب لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کے مانند ہوئے اور ہوا انہیں اڑا لے گئی یہاں تک کہ اُن کا پتہ نہ ملا اور وہ پتھر جس نے اُس مورت کو مارا ایک بڑا پہاڑ بن گیا اور تمام زمین کو بھر دیا۔ان الفاظ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے اتباع کی خبر دی گئی ہے۔آپ کی جماعت کا ٹکراؤ پہلے قیصر روما سے اور پھر ایران کی حکومت سے ہوا۔اور جب قیصر روما سے آپ کی کی جماعت کا ٹکراؤ ہوا اُس وقت وہ سکندر کی وراثت پر بھی قابض تھا اور روما کی وراثت کا بھی وارث تھا اور جب آپ کا ٹکراؤ ایرانی حکومت سے ہوا تو وہ بابل اور فارس اور میدیا دونوں حکومتوں کی قائمقام تھی۔جب آپ کے صحابہ سے ٹکرانے کی وجہ سے یہ دونوں حکومتیں تباہ ہوئیں تو دانیال کے قول کے مطابق لوہا اور مٹی اور تانبا اور چاندی اور سونا ٹکڑے ٹکڑے کئے گئے اور تابستانی کھلیان کی بھوسی کی مانند ہو گئے۔خواب کی ترتیب اور دانیال کی کی ہوئی تعبیر دونوں ہی اس مضمون کی تائید کرتی ہیں۔اس میں کیا شبہ ہے کہ بابل کی جگہ فارس اور میدیا نے لی اور فارس اور میدیا کا زور سکندر نے توڑا اور سکندر کی حکومت کو رومی حکومت کھا گئی جس نے اپنے مشرقی مرکز میں بیٹھ کر ایک زبر دست یورپین ایشیائی شہنشاہیت قائم کی۔اس شہنشاہیت کو رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے صحابہ نے ہی تو ڑا۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم خود ایک لشکر لے کر قیصر کی سرحدوں کی طرف تشریف لے گئے تھے لیکن یہ معلوم کر کے کہ قیصر کی فوجوں کی عرب پر حملہ آور ہونے کی خبر قبل از وقت تھی واپس تشریف لے آئے۔مگر اس کے بعد رومی حکومت