انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 153 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 153

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۵۳ دیباچہ تفسیر القرآن تم اپنا دوسرا گال بھی اس کی طرف پھیر دو، اس میں تو کوئی خاص فضیلت نہیں عمل اصل چیز ہے اور یہ عمل صرف محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ہی کی ذات سے ظاہر ہوا۔کیسے کیسے مظالم تھے جو مکہ والوں نے آپ پر اور آپ کی جماعت پر کئے۔کتنے خون تھے جو آپ کے رشتہ داروں اور آپ کے اتباع کے ان لوگوں نے بہائے۔شاید رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا جسم سر سے لے کر پیر تک گواہ تھا ان مظالم کا جو آپ کے دشمنوں نے آپ کے خلاف روار کھے کیونکہ کبھی آپ پر سنگباری کی گئی ،کبھی آپ پر تیراندازی کی گئی ،کبھی آپ کے جسم کو اور ذرائع سے تکلیف پہنچانے کی کوشش کی گئی ، وطن سے آپ کو بے وطن ہونا پڑا اور آپ کے صحابہ کو بھی۔پھر ماؤں نے بچوں کو چھوڑ دیا، خاوندوں نے بیویوں کو چھوڑ دیا، بھائیوں نے بھائیوں کو چھوڑ دیا اور مسلمان ایک مقہور اور متروک جماعت ہو کر رہ گئے۔غریب اور کمزور مردوں کو دو اونٹوں سے باندھ کر اور کی متضاد جہتوں کی طرف چلا کر چیر دیا گیا۔عورتوں کی شرمگاہوں میں نیزے مار کر انہیں مار دیا۔غلاموں کو ننگا کر کے سخت پتھروں پر سے گھسیٹا۔جلتی ہوئی ریت پر لٹا کر اُن کے سینوں پر ظالم کو دے اور اصرار کیا کہ تم کہو خدا ایک نہیں بلکہ بت بھی خدا کے شریک ہیں۔جنگ میں مسلمان شہداء کی لاشیں چیر کر اُن کے جگر اور دل نکال کر باہر پھینک دیئے گئے۔اُن کے ناک اور کان کاٹ دیئے گئے۔غرض زندوں اور مُردوں، مردوں اور عورتوں ، جوانوں اور بوڑھوں ہر ایک کو دُکھ دیا گیا۔ہر ایک کی تذلیل کی گئی ، ہر ایک کے ساتھ خلاف انسانیت مظالم کا ارتکاب کیا گیا۔یہ سب کچھ ہوا مگر جب خدا تعالیٰ کی نصرت نے آخر مسلمانوں کو فتح دی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ایک فاتح کی حیثیت سے مکہ میں داخل ہوئے تو آپ نے اپنے دشمنوں کے سامنے صرف یہ اعلان کیا کہ لَا تَشْرِيْبَ عَلَيْكُمُ الْيَوْمَ ١٣ جب ہمیں خدا نے قوت اور طاقت دی ہے ہم اعلان کرتے ہیں کہ مکہ کے تمام لوگوں کو معاف کیا جاتا ہے اور اُن کے مظالم کی اُنہیں کی کوئی سزا نہیں دی جائے گی۔یہی نہیں کہ اُن کو سزا نہیں دی گئی بلکہ اُن کے جذبات کا اتنا احترام کیا گیا کہ جب اسلامی لشکر مکہ میں داخل ہونے کے لئے بڑھ رہا تھا تو ایک اسلامی جرنیل نے یہ کہہ دیا کہ آج ہم زور سے مکہ میں داخل ہوں گے اور اُن مظالم کا بدلہ لیں گے جو مکہ والوں نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور ان کے صحابہ پر کئے تھے۔اس پر آپ نے اُس جرنیل کو معزول