انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 140 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 140

انوار العلوم جلد ۲۰ ۱۴۰ دیباچہ تفسیر القرآن رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم پر ہی چسپاں ہو سکتی ہیں اور اُنہی کی خبر غزل الغزلات میں دی گئی ہے ہے۔غزل الغزلات در حقیقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے عشق کے اظہار میں لکھی گئی ہے۔پانچویں پیشگوئی۔یسعیاہ نبی نے بھی یسعیاہ کی کتاب بھی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی پیشگوئیوں سے بھری پڑی ایک عظیم الشان نبی کے ظہور کی خبر دی ہے اور اس سے معلوم ہوتا ہے کہ ایک عظیم الشان نبی اور آنے والا ہے جو دنیا کیلئے سلامتی اور امن لائے گا لیکن جیسا کہ سنت الہی کی ہے پیشگوئیوں میں ایک رنگ اخفاء کا بھی پایا جاتا ہے۔چنانچہ یسعیاہ کی پیشگوئیوں میں بھی یروشلم اور صیہوں وغیرہ کے نام آئے ہیں جس کی وجہ سے مسیحی مصنفوں نے دھوکا کھایا ہے کہ یہ پیشگوئیاں مسیح کے متعلق ہیں۔حالانکہ یروشلم یا بنو اسرائیل یا صیہوں کے الفاظ اپنی ذات میں تو پیشگوئی کا کوئی حصہ نہیں۔اگر پیشگوئی کی تفصیلات مسیح پر چسپاں نہیں ہوتیں تو صرف یروشلم اور صیہوں کے الفاظ سے کیا دھوکا لگ سکتا ہے۔اس صورت میں ہمیں یہی ماننا پڑے گا کہ یروشلم اور صیہوں اور بنی اسرائیل سے مراد صرف یہ ہے کہ میرے مقدس مقامات اور میری پیاری قوم نہ کہ حقیقی طور پر یروشلم اور صیہوں اور بنی اسرائیل۔(الف) اس سلسلہ میں سب سے پہلی پیشگوئی میں یسعیاہ باب ۴ سے نقل کرتا ہوں۔لکھا ہے:۔اُس دن سات عورتیں ایک مرد کو پکڑ کر کہیں گی کہ ہم اپنی روٹی کھائیں گی اور اپنے کپڑے پہنیں گی تو ہم سب سے صرف اتنا کر کہ ہم تیرے نام کی کہلا دیں تا کہ ہماری شرمندگی مئے۔اُس دن خداوند کی شان شوکت اور حشمت ہوگی اور زمین کا پھل اُن کے لئے جو بنی اسرائیل میں سے بچ نکلے لذیذ اور خوشنما ہوگا اور ایسا ہوگا کہ ہر ایک جو صیہوں میں چھوٹا ہوا ہوگا اور یروشلم میں باقی رہے گا۔بلکہ ہر ایک جس کا نام یروشلم کے زندوں میں لکھا ہو گا مقدس کہلائے گا“۔۱۳۵ اس پیشگوئی میں اگر صیہوں اور یروشلم کو استعارہ قرار دیا جائے تو جو مفہوم اس پیشگوئی کا نکلتا ہے وہ سوائے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اور کسی پر صادق نہیں آتا۔ان آیتوں میں یہ پیشگوئی کی گئی ہے کہ آنے والے موعود کے ساتھ شوکت اور حشمت ہوگی اور اُس کو دنیا کی کچ