انوارالعلوم (جلد 20) — Page x
انوار العلوم جلد ۲۰ تعارف کت (۴) مسلمانانِ پاکستان کے تازہ مصائب حضرت مصلح موعود نے یہ مضمون بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح کی وفات کے موقع پر تحریر فرمایا جو مورخه ۲۱ ستمبر ۱۹۴۸ء کو روزنامہ الفضل میں شائع ہوا۔۔اِس مضمون کا آغار حضور نے اپنی ایک رؤیا سے کیا ہے جس میں آپ کو ابوالہول جیسی ایک چیز دکھائی گئی جس کے دو سر تھے۔یہ رویا حضور کو ۱۱ اور ۱۲ ستمبر کی درمیانی رات کو دکھائی گئی جبکہ قائد اعظم کی وفات مؤرخہا ا ستمبر کو رات 10 بجے ہوئی تھی۔حضور کا سونے کا معمول عموماً رات تقریباً گیارہ بجے کے بعد ہوتا تھا اس لیے یہ یقینی بات ہے کہ یہ رویا حضور کو قائد اعظم کی وفات کے بعد رات کو دکھائی گئی۔مگر سونے سے قبل تک حضور کو قائد اعظم کی وفات کی ابھی اطلاع نہیں ملی تھی۔پس حضور نے اس رؤیا کی تعبیر یہ فرمائی کہ اس رؤیا میں جس چیز کی شکل دکھائی گئی اس کے دوسر تھے جس سے مراد یہ ہے کہ مسلمانوں پر دو مصیبتیں آنے والی ہیں مگر مسلمان ان دونوں مصیبتوں کو برداشت کر جائیں گے۔ان میں سے ایک مصیبت تو قائد اعظم جیسے ایک عظیم لیڈر کی وفات اور دوسری مصیبت حیدر آباد دکن پر ہندوستانی فوج کا قبضہ تھا۔اس مضمون کے آخر پر حضور نے حیدر آباد دکن کی سلطنت کی کچھ تاریخ بیان کرتے ہوئے فرمایا کہ حق تو یہ ہے کہ حیدر آباد دکن اپنے حالات کے لحاظ سے انڈین یونین میں ہی شامل ہونا چاہیے تھا جس طرح کہ کشمیر اپنے حالات کے لحاظ سے پاکستان میں شامل ہونا چاہیے لیکن ان واقعات پر کوئی جزع فزع کرنے کی بجائے مسلمانانِ پاکستان اگر مضبوط ارادے، بلند حوصلہ اور پختہ عزم سے کام لیں تو یقیناً پاکستان روز بروز ترقی کرتا چلا جائے گا اور دنیا کی مضبوط ترین طاقتوں میں سے ہو جائے گا۔(۵) احمدیت کا پیغام حضرت مصلح موعود نے یہ کتابچہ اکتوبر ۱۹۴۸ء میں تحریر فرمایا۔اس کتا بچہ میں احمدیت سے متعلق اس بنیادی سوال کہ احمدیت کیا ہے اور کس غرض سے اس کو قائم کیا گیا ہے؟‘ کا جواب