انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page viii of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page viii

انوار العلوم جلد ۲۰ تعارف کتب علمی حیثیت سے قرآنی حقائق و معارف کی جو تشریح تبیین و تر جمانی وہ کر گئے ہیں اس کا بھی بلند وممتاز مرتبہ ہے“۔(صدق جدید لکھنو ۱۸ ۱۷اپریل ۱۹۶۵ء) حضرت مصلح موعود نے ایک دفعہ خود فرمایا کہ: میں وہ شخص تھا جسے علوم ظاہری و باطنی میں سے کوئی علم حاصل نہیں تھا مگر خدا نے اپنے فضل سے فرشتوں کو میری تعلیم کے لیے بھجوایا اور مجھے قرآن کے ان مطالب سے آگاہ فرمایا جوکسی کے وہم و گمان میں بھی نہیں آسکتے تھے “۔(الموعود صفحہ ۲۱) ایک اور موقع پر آپ نے فرمایا کہ: ” میں نے کوئی امتحان پاس نہیں کیا۔ہر دفعہ فیل ہی ہوتا رہا ہوں مگر اب میں خدا کے فضل سے کہتا ہوں کہ کسی علم کا مدعی آ جائے اور ایسے علم کا مدعی آ جائے جس کا میں نے نام بھی نہ سنا ہو اور اپنی باتیں میرے سامنے مقابلہ کے طور پر پیش کرے اور میں اُسے لا جواب نہ کر دوں تو جو اُس کا جی چاہے کہے۔( ملا ئکتہ اللہ صفحہ ۵۳) پس زیر نظر کتاب دیباچہ تفسیر القرآن، حضرت مصلح موعود کے مذکورہ بالا دعاوی کا منہ بولتا ثبوت ہے جسے حضور نے ایک قلیل وقت میں تصنیف فرمایا۔اس میں یورپ کے نقادین اسلام کے مشہور اعتراضات کے دندان شکن جوابات دیئے گئے ہیں اور ضرورتِ قرآن پر نہایت لطیف رنگ میں بحث کی گئی ہے اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کی مقدس سیرت کے واقعات از ولادت تا وفات ایسے عمدہ اور دلکش پیرایہ میں بیان کیے گئے ہیں جو اپنی نظیر آپ ہیں نیز آپ کے بارہ میں بائبل میں مندرج پیشگوئیاں بھی تفصیل سے بیان کی گئی ہیں۔اس کے مضامین عالیہ اور براہین نیرہ مندرجہ ذیل شعر کے مصداق ہیں۔أَحَادِيتُ قَدْ صِيغَتْ فَتُلْهِي بِحُسْنِهَا عَنِ الْوَشُى اَوْ شُمَّتْ لَاغْنَتْ عَنِ الْمِسْكِ یعنی اس کے مضامین اور عبارتیں ایسے رنگ میں ڈھالی گئی ہیں کہ جو اپنی ذاتی زیبائش اور حسن کی وجہ سے بناؤ سنگھار اور نقش و نگار سے مستغنی کر دیتی ہیں اور اگر انہیں سونگھی جانے والی چیز سے تشبیہ دی جائے تو اس کی خوشبو کستوری سے بے نیاز کر دیتی ہے۔یہ کتاب کلام اللہ