انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 65 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 65

انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن بیان والی بائبل کس طرح بنی نوع انسان کے لئے تسلی کا موجب ہو سکتی ہے۔بیشک وہ خدا کی تی طرف سے تھی ، بیشک خدا کے نبیوں نے اسے لکھا تھا لیکن وہ مٹ چکی تھی۔وہ مسخ ہو چکی تھی ، وہ انسانی دست بُرد کا شکار ہو چکی تھی ، ایسی کتاب کو اُس کے بگڑ جانے کے بعد بھی خدا تعالیٰ کا کلام کہنا دشمنوں کو خدا تعالیٰ پر اعتراض کرنے کا موقع دینا ہے۔ضروری تھا کہ اس کے بعد ایک اور کتاب کی آتی جو انسانی دست برد سے پاک ہوتی اور ایسی خلاف عقل باتوں سے محفوظ ہوتی۔چنانچہ ہم دیکھتے ہیں قرآن نے اس واقعہ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے فرمایا ہے الم ترالی الذین خرجوا مِن دِيَارِهِمْ وَهُمْ ألُوفَ حَذَرَ المَوت ۵۹، بنی اسرائیل جو فرعون کے ظلم سے ڈر کر بھاگے تھے اُن کی تعداد صرف چند ہزار تھی اور یہی بات صحیح اور درست ہے ورنہ ۲۵ لاکھ یہودی فلسطین کے چھوٹے چھوٹے قبائل سے ڈر کس طرح سکتے تھے۔فلسطین کی آبادی تو اپنی شان وشوکت کے زمانہ میں بھی ۲۵ - ۳۰ لاکھ سے نہیں بڑھی۔آجکل بھی اس کی آبادی ۱۳ - ۱۴ لاکھ ہے اور اس میں اور زیادتی کرنے کے خلاف عرب سختی سے احتجاج کر رہے ہیں۔پرانے زمانہ میں جبکہ خوراک اِدھر اُدھر پہنچانے کے سامان مفقود تھے غیر زرعی علاقوں میں بڑی آبادی ہو ہی نہیں سکتی تھی۔موسی کے وقت میں یقیناً سارے فلسطین کی آبادی چند ہزار افراد پر مشتمل کی ہو گی۔چنانچہ بنی اسرائیل اور ان کے دشمنوں کی لڑائیوں میں ہمیشہ سینکڑوں اور ہزاروں افراد کا ہی پتہ لگتا ہے۔اگر موسٹی کے ساتھ ۲۵ لاکھ آدمی فلسطین میں سے آئے تھے تو سفر کا زمانہ تو الگ رہا حکومت کے زمانہ میں بھی خوراک کا انتظام نہ ہوسکتا تھا اور لڑائی کا تو ذکر ہی کیا ہے۔یہ لوگ تو اپنے کندھوں کے دھکوں سے ہی ان چند ہزار افراد سے فلسطین کو خالی کر سکتے تھے جو اُن سے پہلے وہاں بس رہے تھے۔۴۔اسی طرح تو رات میں لکھا ہے:۔’ جب لوگوں نے دیکھا کہ موسیٰ پہاڑ سے اُترنے میں دیری کرتا ہے تو وہ ہارون کے پاس جمع ہوئے اور اسے کہا کہ اُٹھ ہمارے لئے معبود بنا جو ہمارے آگے آگے چلے کیونکہ یہ مرد موسیٰ' جو ہمیں مصر کے ملک سے نکال لایا ہے ہم نہیں جانتے کہ اسے کیا ہوا۔ہارون نے انہیں کہا کہ زیور سونے کے جو تمہاری جورؤوں اور تمہارے بیٹوں