انوارالعلوم (جلد 20) — Page 63
انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۳ دیباچ تفسیر القرآن کے قابل نہیں سمجھا جاتا۔۵۸ خود رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا اپنا یہ حال تھا کہ جب آپ کی شادی کے موقع پر آپ کی بیوی نے اپنا مال اور غلام آپ کی خدمت میں پیش کر دیئے۔تو آپ نے فرمایا میں کسی انسان کو اپنا غلام رکھنے کے لئے تیار نہیں ہوں۔یہ کہہ کر آپ نے سب غلام آزاد کر دیئے اور ساری عمر آپ نے کوئی غلام نہیں رکھا۔۲۔احبار باب ۲۰ آیت ۲۷ میں لکھا ہے کہ:۔مرد یا عورت جس کا یار دیو ہے یا جادوگر ہے تو دونوں قتل کئے جاویں، چاہیئے کہ تم اُن پر پتھراؤ کرو اور اُن کا خون اُنہی پر ہووئے“۔اسی طرح خروج باب ۲۲ آیت ۱۸ میں لکھا ہے کہ:۔وو تو جادوگروں کو جینے مت دے“۔یہ کیسی خلاف عقل تعلیم ہے اور پھر ظالمانہ بھی۔اگر جادوگر سے مراد یہاں ہتھکنڈے دکھانے والے لوگ ہیں تو وہ ایک معصوم پیشہ لوگ ہیں۔انسان کی مشوش زندگی میں کبھی کبھی ہنسی تی اور مذاق کا وقت بھی آجاتا ہے۔اُس وقت یہ لوگ اپنی دیرینہ مشقوں کے ذریعہ سے لوگوں کی تو جہات کو زیادہ سنجیدہ مسائل سے اپنے ہتھکنڈوں کی طرف کھینچ لیتے ہیں۔اس بے ضرر پیشہ کو قتل کا موجب قرار دینا انصاف کی تعلیم نہیں کہہ سکتے۔اور اگر جادوگر سے مراد وہ روایتی جادوگر ہیں جو مرد کو بیل اور عورت کو چڑیا بنا دیتے ہیں تو یہ تعلیم نہ صرف احمقانہ ہے بلکہ ظالمانہ بھی۔کیونکہ ایسے جادو گر نہ بھی ہوئے اور نہ بھی ہوں گے اور کسی کی طرف ایسے جادو منسوب کر کے قتل کر دینا ظالمانہ فعل ہے۔استثناء باب ۷ آیت ۲ میں لکھا ہے:۔جبکہ خدا وند تیرا خدا انہیں تیرے حوالہ کرے تو تو انہیں ماریو اور حرم کیجیئو نہ تو ان سے کوئی عہد کر یو اور نہ ان پر رحم کر یوں“۔ایک مغلوب دشمن کے متعلق یہ کیسی ظالمانہ تعلیم ہے۔تمام دشمنوں کو قتل کر دینا، ان کے ساتھ کسی قسم کا عہد نہ کرنا اور ہر قسم کے رحم سے انہیں محروم کر دینا یہ ظلم با دشاہوں کا فعل تو ہوسکتا ہے