انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page vii of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page vii

انوار العلوم جلد ۲۰ تعارف کتب بڑھتی اور ترقی کرتی ہیں اور اُنہیں لوگوں کے اعتراضات برداشت کرنے پڑتے ہیں۔پس اپنے آپ کو اس فتح کا اہل بناؤ۔جب تک آپ لوگ خدا اور اس کے رسول کے دیوانے نہیں بن جاتے ، جب تک موجودہ فیشن اور رسم و رواج کو کچلنے کے لئے تیار نہیں ہو جاتے اُس وقت تک اسلامی احکام کو ایک غیر مسلم کبھی بھی قبول کرنے کے لئے تیار نہیں ہوگا۔“ (۲) دیباچہ تفسیر القرآن اللہ تعالیٰ نے پیشگوئی مصلح موعود میں پسر موعود کی علامت یہ بیان فرمائی تھی کہ وہ علوم ظاہری و باطنی سے پر کیا جائے گا۔۔۔کلام اللہ کا مرتبہ ظاہر ہو گا۔حضرت مصلح موعود کے متعلق بیان فرمودہ اس علامت سے ظاہر ہے کہ خدا تعالیٰ نے خود آپ کا معلم بننا تھا اور خود آپ کو ظاہری و باطنی علوم سے بہرہ ور کرنا تھا۔چنانچہ دنیا نے دیکھ لیا کہ کسی علم میں بھی دنیا کا کوئی عالم آپ کا مقابلہ نہ کر سکا اور جس کو بھی آپ سے شرف ملاقات حاصل ہوا وہ اس حقیقت کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکا کہ واقعی مذکورہ بالا پیشگوئی کا حرف حرف آپ کے وجود میں پورا ہوا۔بالخصوص قرآن کریم کے علوم و معارف پر آپ کو ایسی دسترس عطا فرمائی گئی کہ غیر بھی اس کا اعتراف کیے بغیر نہ رہ سکے۔چنانچہ پاک و ہند کے ایک مایہ ناز انشا پرداز اور اُردو ادب کے مسلّم نقاد علامہ نیاز فتح پوری صاحب نے آپ کی شہرہ آفاق تفسیر کبیر‘ کا مطالعہ کرنے کے بعد آپ کی خدمت میں تحریر فرمایا کہ:۔اس میں شک نہیں کہ مطالعہ قرآن کا ایک بالکل نیا زاویۂ فکر آپ نے پیدا کیا ہے اور یہ تفسیر اپنی نوعیت کے لحاظ سے بالکل پہلی تفسیر ہے جس میں عقل و نقل کو بڑے حسن سے ہم آہنگ دکھایا گیا ہے۔آپ کی تبحر علمی ، آپ کی وسعت نظر ، آپ کی غیر معمولی فکر و فر است ، آپ کا حسن استدلال اس کے ایک ایک لفظ سے نمایاں ہے“۔( الفضل ۱۷ نومبر ۱۹۶۳ء) حضرت مصلح موعود کے انتقال پر مولا نا عبدالماجد دریا آبادی نے لکھا کہ:۔