انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 546 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 546

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۴۶ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم ہوگی سے مراد آسمان تھا اور مطلب یہ تھا کہ کھلے آسمان کے نیچے بھی مسلمانوں کو امن نہیں ملے گا۔چنانچہ لوگ جب اپنے مکانوں اور شہروں سے نکل کر ریفیوجی کیمپوں میں جمع ہوتے تھے تو وہاں بھی سکھ ان پر حملہ کر دیتے اور ان میں سے بہت سے لوگوں کو مار ڈالتے۔اس رؤیا کے مطابق یہ جگہ مرکز کے لئے تجویز کی گئی ہے۔جب میں قادیان سے آیا تو اُس وقت یہاں اتفاقاً چوہدری عزیز احمد صاحب احمدی سب جج لگے ہوئے تھے۔میں شیخو پورہ کے متعلق مشورہ کر رہا تھا کہ چوہدری عزیز احمد صاحب میرے پاس آئے اور انہوں نے کہا کہ میں نے اخبار میں آپ کی ایک اس اس رنگ کی خوابی پڑھی ہے میں سمجھتا ہوں کہ چنیوٹ، ضلع جھنگ کے قریب دریائے چناب کے پار ایک ایسا ٹکڑہ زمین ہے جو اس خواب کے مطابق معلوم ہوتا ہے۔چنانچہ میں یہاں آیا اور میں نے کہا ٹھیک ہے خواب میں جو میں نے مقام دیکھا تھا اس کے ارد گرد بھی اسی قسم کے پہاڑی ٹیلے تھے۔صرف ایک فرق ہے اور وہ یہ کہ میں نے اُس میدان میں گھاس دیکھا تھا مگر یہ چٹیل میدان منی ہے۔اب بارشوں کے بعد کچھ کچھ سبزہ نکلا ہے ممکن ہے ہمارے آنے کے بعد اللہ تعالیٰ یہاں گھاس بھی پیدا کر دے اور اس رقبہ کو سبزہ زار بنادے۔بہر حال اس رؤیا کے مطابق ہم نے اس چی جگہ کو چنا ہے اور یہ رویا وہ ہے جس کے ذریعہ چھ سال پہلے اللہ تعالی نے ہمیں آئندہ آنے والے واقعات سے خبر دے دی تھی۔دنیا میں کون ایسا انسان ہے جس کی طاقت میں یہ بات ہو کہ وہ چھ سال پہلے آئندہ آنے والے واقعات بیان کر دے۔انگریزوں کی حکومت کے زمانہ میں بھلا قادیان پر حملہ کا سوال ہی کہاں پیدا ہوتا تھا۔پھر قادیان کو چھوڑ نا کس کے خیال میں آ سکتا تھا۔کون خیال کر سکتا تھا کہ مسلمانوں پر ایک بہت بڑی تباہی آنے والی ہے اتنی بڑی کہ وہ اپنے شہروں اور گھروں سے نکل کر آسمان کے نیچے ڈیرے ڈالیں گے تو وہاں بھی وہ دشمن کے حملہ سے محفوظ نہیں ہوں گے مگر یہ تمام واقعات رونما ہوئے اور پھر اللہ تعالیٰ نے اس رؤیا کے مطابق ہمیں ایک نیا مرکز بھی دیدیا۔یہاں جس قسم کی مخالفت تھی اس کے لحاظ سے اس مرکز کا ملنا بھی اللہ تعالیٰ کی تائید اور اس کی نصرت کا ایک کھلا ثبوت ہے۔اللہ تعالیٰ نے ایسا تصرف کیا کہ مخالفین کے اخباروں نے پیچھے شور مچایا اور ہمارا سودا پہلے طے ہو چکا تھا۔پھر اس قدر جھوٹ