انوارالعلوم (جلد 20) — Page 454
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۴ دیباچ تفسیر القرآن سے لے کر مسیح تک اور مسیح سے لے کر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک کلام کرتا چلا آیا ہے اُسی طرح جس طرح کہ وہ پیدا کرتا چلا آیا ہے، جس طرح وہ سنتا چلا آیا ہے، جس طرح وہ دیکھتا چلا آیا ہے وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد بھی مخلوق کی انتہاء تک اپنے خاص خاص بندوں سے کلام کرتا چلا جائے گا اور اپنی ذات کو دنیا پر ظاہر کرتا رہے گا۔یہ نہیں ہو سکتا کہ مسیح یا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ گویا رہا ہو اور پھر وہ گونگا ہو گیا ہو۔جس طرح یہ نہیں ہوسکتا کہ مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ بینا تھا مگر بعد کو اندھا ہو گیا۔یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ خالق تھا مگر اس کے بعد اس سے صفت خلق جاتی رہی۔یا مسیحی اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ طاقتور تھا مگر اس کے بعد اُس کی طاقت سلب ہوگئی۔کون عظمند اس بات کو تسلیم کر سکتا ہے کہ خدا پہلے طاقتور تھا اب کمزور ہو گیا ہے یا خدا پہلے بینا تھا تو اب اندھا ہو گیا ہے۔یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک وہ خالق تھا اس کے بعد پیدائش کی طاقت اُس کے ہاتھوں سے نکل گئی۔یا مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تک تو وہ علیم تھا اس کے بعد اس کا علم جاتا رہا۔تعجب کی بات ہے کہ باوجود اس کے کہ حقیقت اتنی واضح ہے پھر بھی زرتشتی ، یہودی ، عیسائی اور آجکل کے غلطی خوردہ مسلمان اس بات پر یقین رکھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ کا کلام زرتشت، پرانے اسرائیلی نبیوں ، مسیح اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم پر آکر ختم ہو گیا ہے۔قرآن اس کو رڈ کرتا ہے۔قرآن خدا تعالیٰ کے زندہ ہونے کا ثبوت ہی اس بات کو قرار دیتا ہے کہ خدا اپنے نیک بندوں سے ہمیشہ کلام کرتا رہے گا جس طرح وہ پہلے کلام کیا کرتا تھا اور اس زمانہ میں حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ظہور نے ایک دفعہ پھر اس قرآنی صداقت پر مہر لگادی ایک دفعہ پھر خدا تعالیٰ کا کلام آپ پر اور آپ کے نیچے اتباع پر نازل ہو کر دنیا کے اُن لوگوں کو چیلنج دے رہا ہے جو لفظ نہیں تو عقیدہ ضرور خدا تعالیٰ کو گونگا بنا رہے تھے۔قرآن اس بحث کو بھی اُٹھاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا کلام کسی ایک قوم سے مخصوص نہیں بلکہ تمام اقوام میں خدا تعالیٰ کے نبی آتے رہے ہیں اور وہ اس سوال کو بھی اُٹھاتا ہے کہ یکے بعد دیگرے خدا تعالیٰ کے نبی کیوں آتے رہے اور کیوں نہ ایک کامل کتاب ابتدائی زمانہ میں ہی نازل ہو گئی۔پھر قرآن کریم تو حید کے مسئلہ پر ایک سیر کن بحث کرتا ہے۔وہ بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کے