انوارالعلوم (جلد 20) — Page 415
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱۵ دیباچهتفسیر القرآن تھا۔صرف اس کو اس کے اپنے اقرار کے مطابق سزا دو۔لیکن اگر وہ عورت بھی اقرار کرے تو پھر اُسے بھی سزا دو۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا طریق تھا کہ جن امور کے متعلق قرآنی تعلیم نازل نہ ہو چکی ہوتی تھی اُن میں آپ تو رات کی تعلیم پر عمل کر لیتے تھے۔تورات کے حکم کے مطابق زانی کے لئے سنگساری کا حکم ہے۔چنانچہ آپ نے بھی اُس شخص کے سنگسار کئے جانے کا حکم دیا۔جب لوگ اُس پر پتھر پھینکنے لگے تو اُس نے بھاگنا چاہا، لیکن لوگوں نے دوڑ کر اُس کا تعاقب کیا اور تورات کی تعلیم کے مطابق اُسے قتل کر دیا۔جب رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو اس کا علم ہوا تو آپ نے اس کو نا پسند فرمایا۔آپ نے فرمایا اُس کو سزا اُس کے اقرار کے مطابق دی گئی۔جب وہ بھاگا تھا تو اُس نے اپنا اقرار واپس لے لیا تھا اس لئے تمہارا کوئی حق نہ تھا کہ اُس کے بعد اُس کو سنگسار کرتے اُس کو چھوڑ دینا چاہیے تھا۔۵۰۸ آپ ہمیشہ حکم دیتے تھے کہ شریعت کا نفاذ ظاہر پر ہونا چاہئے۔ایک دفعہ ایک جنگ پر کچھ صحابہ گئے ہوئے تھے راستہ میں ایک مشرک اُنہیں ایسا ملا جو ادھر اُدھر جنگل میں چھپا پھرتا تھا اور جب کبھی اُسے کوئی اکیلا مسلمان مل جاتا تو اُس پر حملہ کر کے وہ اُسے مار ڈالتا۔اُسامہ بن زید نے اس کا تعاقب کیا اور ایک موقع پر جا کر اُسے پکڑ لیا اور اسے مارنے کے لئے تلوار اُٹھائی۔جب اُس نے دیکھا کہ اب میں قابو آ گیا ہوں تو اُس نے کہا لا اله الا الله جس سے اُس کا مطلب یہ تھا کہ میں مسلمان ہوتا ہوں مگر اُسامہ نے اُس کے اِس قول کی پرواہ نہ کی اور اُسے مار ڈالا۔جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس لڑائی کی خبر دینے کے لئے ایک شخص مدینہ پہنچا تو اُس نے لڑائی کے سب احوال بیان کرتے کرتے یہ واقعہ بھی بیان کیا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اُسامہ کو بلوایا اور اُن سے پوچھا کہ کیا تم نے اُس آدمی کو مار دیا تھا؟ انہوں نے کہا ہاں۔آپ نے فرمایا قیامت کے دن کیا کرو گے جب لا إِلهَ إِلَّا الله تمہارے خلاف گواہی کی دے گا۔یعنی خدا تعالیٰ کی طرف سے یہ سوال کیا جائے گا کہ جب اُس شخص نے لَا إِلَهَ إِلَّا اللَّهُ کہا تھا تو پھر تم نے کیوں مارا؟ گو وہ قاتل تھا مگر تو بہ کر چکا تھا۔حضرت اسامہ نے کئی دفعہ جواب میں کہا کہ يَا رَسُولَ الله! وہ تو ڈر کے مارے ایمان ظاہر کر رہا تھا۔اس پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا تو نے اُس کا دل چیر کر دیکھ لیا تھا کہ وہ جھوٹ بول رہا ہے؟ اور پھر بار بار یہی