انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 411 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 411

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۱۱ دیباچهتفسیر القرآن کوئی زندہ ہے؟ اُس نے کہا دونوں زندہ ہیں۔آپ نے فرمایا کیا تم چاہتے ہو کہ خدا تم سے راضی ہو جائے۔اس نے کہا ہاں يَا رَسُولَ الله! آپ نے فرمایا پھر بہتر یہ ہے کہ واپس جاؤ اور اپنے والدین کی خدمت کرو اور خوب خدمت کرو۔۴۹۷ آپ ہمیشہ اس بات کی نصیحت کیا کرتے تھے کہ حسن سلوک میں مذہب کی کوئی شرط نہیں۔غریب رشته دار خواہ کسی مذہب کے ہوں اُن سے حسن سلوک کرنا نیکی ہے۔حضرت ابوبکر کی ایک بیوی مشرکہ تھیں۔حضرت ابو بکر کی بیٹی اسمائہ نے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے پوچھا ك يَا رَسُولَ اللہ ! کیا میں اُس سے حسن سلوک کر سکتی ہوں؟ آپ نے فرما یا ضر و ر وہ تیری ماں ہے تو اُس سے حسن سلوک کر۔۴۹۸ رشتہ دار تو الگ رہے آپ اپنے رشتہ داروں کے رشتہ داروں اور اُن کے دوستوں تک کا بھی بہت خیال رکھتے تھے۔جب کبھی آپ قربانی کرتے تو آپ حضرت خدیجہ کی سہیلیوں کی طرف ضرور گوشت بھجواتے اور ہمیشہ کہا کرتے تھے کہ خدیجہ کی سہیلیوں کو نہ بھولنا اُن کی طرف گوشت ضرور بھجوا نا۔۴۹۹ ایک دفعہ حضرت خدیجہ کی وفات کے کئی سال بعد آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ حضرت خدیجہ کی بہن ہالہ آپ سے ملنے آئیں اور دروازہ پر کھڑے ہو کر کہا ” کیا میں اندر آ سکتی ہوں؟ ہالہ کی آواز میں اُس وقت اپنی مرحومہ بہن حضرت خدیجہ سے بے انتہاء مشابہت پیدا ہو گئی۔اس آواز کے کان میں پڑتے ہی رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے جسم پر کپکپی آگئی پھر آپ سنبھل گئے اور فرمایا آہ میرے خدا! یہ تو خدیجہ کی بہن ہالہ ہیں ۵۰۰ در حقیقت سچی محبت کا اصول ہی یہی ہے کہ جس سے پیار ہو اور جس کا ادب ہو اُس کے قریبیوں اور اس کے ساتھ تعلق رکھنے والوں سے بھی محبت اور پیار پیدا ہو جاتا ہے۔انس بن مالک کہتے ہیں کہ میں ایک دفعہ سفر پر تھا جریر بن عبد اللہ ایک دوسرے صحابی بھی اس سفر میں ساتھ تھے وہ سفر میں نوکروں کی طرح میرے کام کیا کرتے تھے۔جریر بڑے تھے اور اُن کا ادب حضرت انس اپنے لئے ضروری سمجھتے تھے اس لئے وہ کہتے ہیں کہ میں اُنہیں منع کرتا تھ تھا کہ ایسا نہ کریں۔میرے ایسا کہنے پر جریر جواب میں کہتے تھے میں نے انصار کو رسول اللہ