انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 393 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 393

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۹۳ تفسیر القرآن فرمایا۔عائشہ ! تمہیں معلوم نہیں خدیجہ نے میری کس قدرخدمت کی ہے۔۴۴۸ آپ کی طبیعت نہایت ہی سادہ تھی کسی دُکھ پر گھبراتے نہیں تھے اور کبھی کسی اخلاق فاضلہ خواہش سے حد سے زیادہ متاثر نہیں ہوتے تھے۔سواخ میں بتایا جا چکا ہے کہ آپ کی پیدائش سے پہلے آپ کے والد اور بچپن میں ہی آپ کی والدہ فوت ہوگئی تھیں۔ابتدائی آٹھ سال آپ نے اپنے دادا کی نگرانی میں گزارے۔اس کے بعد آپ نے اپنے چچا ابوطالب کی ولایت میں پرورش پائی۔چچا کا خونی رشتہ بھی تھا اور اُن کے والد نے مرتے وقت رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے حق میں خاص طور پر وصیت بھی فرمائی تھی اس لئے وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سے خاص طور پر محبت بھی رکھتے تھے اور آپ کا خیال بھی رکھتے تھے لیکن چی میں نہ وہ شفقت کا مادہ تھا نہ خاندانی ذمہ داریوں کا احساس۔جب گھر میں کوئی چیز آتی تو بسا اوقات وہ اپنے بچوں کو پہلے دیتیں اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا خیال نہ رکھتیں۔ابوطالب گھر میں آتے تو بجائے اس کے کہ اپنے چھوٹے بھتیجے کو روتا ہوا یا گلہ کرتا ہوا پاتے وہ دیکھتے کہ اُن کے بچے تو کوئی چیز کھا رہے ہیں لیکن اُن کا چھوٹا سا بھتیجا کو ہ وقار بنا ایک طرف بیٹھا ہے۔چچا کی محبت اور خاندانی ذمہ داریاں اُن کے سامنے آ جاتیں وہ دوڑ کر اپنے بھتیجے کو بغل میں لے لیتے اور کہتے میرے بچے کا بھی تو خیال کرو، میرے بچے کا بھی تو خیال کرو۔ایسا کی اکثر ہوتا رہتا تھا۔مگر دیکھنے والے بتاتے ہیں کہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے نہ کبھی شکوہ کیا نہ ۲۴۹ آپ کے چہرہ پر کبھی ملال ظاہر ہوا نہ کبھی اپنے چچیرے بھائیوں سے رقابت پیدا ہوئی۔9 چنانچہ آپ کی زندگی بتاتی ہے کہ کس طرح آپ نے بعد کے بدلے ہوئے حالات میں حضرت علی اور حضرت جعفر کو اپنی تربیت میں لے لیا اور ہر طرح سے ان کی بہتری کی تدابیر کیں۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی زندگی دنیوی لحاظ سے نہایت ہی تلخ طور پر گزری ہے۔پیدائش سے پہلے ہی اپنے والد کی وفات پھر والدہ اور دادا کی یکے بعد دیگرے وفات ، پھر شادی ہوئی تو آپ کے بچے متواتر فوت ہوتے چلے گئے اس کے بعد پے در پے آپ کی کئی بیویاں فوت ہوئیں جن میں حضرت خدیجہ رضی اللہ عنہا جیسی باوفا اور خدمت گزار بیوی بھی تھیں۔مگر آپ نے یہ سب مصائب خوشی سے برداشت کئے اور ان عموں نے نہ آپ کی کمر جھ