انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 220 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 220

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن تھا کہ شاید ہجرت مدینہ ہی کی طرف مقدر ہے۔آپ نے اپنے معتبر رشتہ داروں سے اپنے خیالات کا اظہار کیا اور انہوں نے آپ کو سمجھا نا شروع کیا کہ آپ ایسا نہ کریں۔مکہ والے دشمن ہی سہی پھر بھی اس میں بڑے بڑے با اثر لوگ آپ کے رشتہ داروں میں سے موجود ہیں نہ معلوم مدینہ میں کیا ہو اور وہاں آپ کے رشتہ دار آپ کی مدد کر سکیں یا نہ کرسکیں۔مگر چونکہ آپ سمجھ چکے تھے کہ خدائی فیصلہ یہی ہے آپ نے اپنے رشتہ داروں کی باتیں رڈ کر دیں اور مدینہ جانے کا فیصلہ کر دیا۔آدھی رات کے بعد پھر وادی عقبہ میں محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور مدینہ کے مسلمان جمع ہوئے۔اب آپ کے ساتھ آپ کے چا عباس بھی تھے۔اس دفعہ مدینہ کے مسلمانوں کی تعداد ۳ ے تھی۔اُن میں ۶۲ خزرج قبیلہ کے تھے اور گیارہ اوس کے تھے ۲۲۷ اور اس قافلہ میں دو عورتیں بھی شامل تھیں جن میں سے ایک بنی نجار قبیلہ کی اُم عمارہ بھی تھیں۔چونکہ مصعب کے ذریعہ سے اِن لوگوں تک اسلام کی تفصیلات پہنچ چکی تھیں یہ لوگ ایمان اور یقین سے پُر تھے، بعد کے واقعات نے ظاہر کر دیا کہ یہ لوگ آئندہ اسلام کا ستون ثابت ہونے والے تھے۔اُم عمارہ کی جو اُس دن شامل ہوئیں اُنہوں نے اپنی اولاد میں اسلام کی محبت اتنی داخل کر دی کہ اُن کا بیٹا کی حبیب جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کے بعد مسیلمہ کذاب کے لشکر کے ہاتھ میں قید ہو گیا تو مسیلمہ نے اُسے بلا کر پوچھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم) اللہ کے رسول ہیں؟ خبیب نے کہاں ہاں۔پھر مسیلمہ نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ خبیب نے کہا نہیں۔اس پر مسیلمہ نے حکم دیا کہ ان کا عضو کاٹ لیا جائے۔تب مسیلمہ نے پھر اُن سے پوچھا۔کیا تو گواہی دیتا ہے کہ محمد اللہ کے رسول ہیں ؟ خبیب نے کہا ہاں۔پھر اُس کی نے کہا کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں ؟ خبیب نے کہا نہیں۔پھر اُس نے آپ کا ایک دوسرا عضو کاٹنے کا حکم دیا۔ہر عضو کاٹنے کے بعد وہ سوال کرتا جاتا تھا کہ کیا تو گواہی دیتا ہے کہ میں اللہ کا رسول ہوں اور خبیب کہتا تھا کہ نہیں۔اسی طرح اس کے سارے اعضاء کاٹے گئے اور آخر میں اسی طرح ٹکڑے ٹکڑے ہو کر اپنے ایمان کا اعلان کرتے ہوئے وہ خدا سے جا ملا۔۲۲۸