انوارالعلوم (جلد 20) — Page 201
انوار العلوم جلد ۲۰ دیباچہ تفسیر القرآن خدا کے بندوں کے مقابل پر ایثار کا نمونہ دکھاؤ تا خدا تعالیٰ کے ہاں تمہارا حق قائم ہو۔بے شک ہم کمزور ہیں مگر ہماری کمزوری کو نہ دیکھو۔آسمان پر سچائی کی حکومت کا فیصلہ ہو چکا ہے۔اب محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ذریعہ سے عدل کا تر از درکھا جائے گا اور انصاف اور رحم کی حکومت قائم کی جائے گی جس میں کسی پر ظلم نہ ہوگا۔مذہب کے معاملہ میں دخل اندازی نہ کی جائے گی۔عورتوں اور غلاموں پر جو ظلم ہوتے رہے ہیں وہ مٹا دیئے جائیں گے اور شیطان کی حکومت کی جگہ خدائے واحد کی حکومت قائم کر دی جائے گی۔کفار مکہ کی ابو طالب کے پاس شکایت جب یہ تعلیمیں بار بار مکہ والوں کو سنائی جانے لگیں اور شریف الطبع اور آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم کا استقلال لوگوں کی رغبت اسلام کی طرف بڑھنے لگی تو ایک دن مکہ کے سردار جمع ہو کر آپ کے چا ابوطالب کے پاس آئے اور اُن سے کہا کہ آپ ہمارے رئیس ہیں اور آپ کی خاطر ہم نے آپ کے بھتیجے محمد ( صلی اللہ علیہ وسلم ) کو کچھ نہیں کہا۔اب وقت آگیا ہے کہ آپ کے ساتھ ہم آخری فیصلہ کریں یا تو آپ اُسے سمجھا ئیں اور ی اس سے پوچھیں کہ آخر وہ ہم سے چاہتا کیا ہے۔اگر اُس کی خواہش عزت حاصل کرنے کی ہے تو ہم اسے اپنا سردار بنانے کے لئے تیار ہیں۔اگر وہ دولت کا خواہش مند ہے تو ہم میں سے ہر شخص اپنے مال کا کچھ حصہ اُس کو دینے کے لئے تیار ہے۔اگر اُ سے شادی کی خواہش ہے تو مکہ کی ہرلڑکی جو اُسے پسند ہو اُس کا نام لے ہم اُس سے اُس کا بیاہ کرانے کے لئے تیار ہیں۔ہم اس کے بدلہ میں اُس سے کچھ نہیں چاہتے اور کسی بات سے نہیں روکتے۔ہم صرف اتنا چاہتے ہیں کہ وہ ہمارے بتوں کو بُرا کہنا چھوڑ دے۔وہ بیشک کہے خدا ایک ہے مگر یہ نہ کہے کہ ہمارے بتی بُرے ہیں۔اگر وہ اتنی بات مان لے تو ہماری اس سے صلح ہو جائے گی۔آپ اُسے سمجھا ئیں اور ہماری تجویز کے قبول کرنے پر آمادہ کریں۔ورنہ پھر دو باتوں میں سے ایک ہو گی یا آپ کو اپنا بھتیجا چھوڑنا پڑے گا یا آپ کی قوم آپ کی ریاست سے انکار کر کے آپ کو چھوڑ دے گی۔ابوطالب کے لئے یہ بات نہایت ہی شاق تھی۔عربوں کے پاس روپیہ پیسہ تو تھوڑا ہی ہوتا تھا ت ان کی ساری خوشی اُن کی ریاست میں ہوتی تھی۔رؤساء قوم کے لئے زندہ رہتے تھے اور قوم کی