انوارالعلوم (جلد 20) — Page 7
انوار العلوم جلد ۲۰ ۷ اپنے فرائض کی ادائیگی میں رات دن منہمک کی وقت کا ضیاع ہے لیکن الف ادا کرنا ہماری طاقت سے باہر نہیں۔مد کوادا کرنا ہماری طاقت سے باہر نہیں۔اگر صحیح طور پر کوشش کی جائے تو قرآن کو ہم اپنے لہجہ کے لحاظ سے اچھی طرح ادا کر سکتے ہیں خصوصاً جبکہ گلا اچھا ہو۔پھر تلاوت کے بعد جو نظم پڑھی گئی ہے وہ بھی اس دستور کے مطابق کہ عموماً پہلے چند اشعار ٹھیک پڑھے جاتے ہیں اور پھر غلطیاں شروع ہو جاتی ہیں۔اسی طرح انہوں نے بھی سات آٹھ اشعار تو ٹھیک پڑھے اور اس کے بعد غلطیاں شروع کر دیں جب جلسہ میں کوئی شخص تلاوت کرتا کی ہے یا نظم کے لئے کھڑا ہوتا ہے تو اس چھوٹی سی عبارت کا مجلس میں پڑھ لینا کوئی مشکل امر نہیں ہوتا اور اگر وہ خود سے صحیح طور پر ادا نہیں کر سکتا تو کسی واقف زبان سے درست کروالینا اس کے لئے کوئی مشکل نہیں ہوتا۔یہ قدرتی بات ہے کہ ایسی صورت میں سننے والے بجائے فائدہ اُٹھانے کے لفظی غلطیوں کے پیچھے لگ جاتے ہیں اور اس طرح فائدہ سے محروم ہو جاتے ہیں اس لئے میں نصیحت کرتا ہوں کہ خدام صحیح طور پر قرآن کریم پڑھنا سیکھیں اور اُردو کی عبارتوں کو بھی صحیح ادا کرنے کی کوشش کیا کریں۔ایڈریس میں جن کاموں کی طرف اشارہ کیا گیا ہے میں ان سے خوش ہوں کہ انہوں نے ان کاموں کے کرنے کی کوشش کی ہے لیکن میں ان کی توجہ اس طرف پھرانا چاہتا ہوں کہ جس کام کے لئے ہم کھڑے ہوئے ہیں وہ اتنا عظیم الشان ہے کہ اس کے لئے یہ کوششیں کافی نہیں کی ہوسکتیں۔مخالف ہمارے مقصد کو نہیں سمجھتا تو وہ معذور ہے۔اگر وہ ضد یا نا واقفیت کی وجہ سے ہماری مخالفت کرتا ہے تو کوئی اعتراض کی بات نہیں وہ تو اس پر غور ہی نہیں کرنا چاہتا یا اگر غور کرتا ہے تو تعصب کی وجہ سے وہ صحیح نتیجہ پر نہیں پہنچ سکتا لیکن اگر ہم بھی اپنے مقصد کو نہ سمجھیں اور ہمارا بھی رویہ ایسا ہی ہو کہ ہم اپنے مقصد کو سمجھنے کی کوشش نہ کریں تو ہم پر یقینا افسوس ہوگا۔ہمارا دعویٰ ہے اور ہم یقین رکھتے ہیں کہ ہمارا دعوی سچا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے اسلام کی نازک حالت کو دیکھ کر حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو بھیجا اور اس کا مقصد یہ ہے کہ آپ کی جماعت کے ذریعہ وہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت کو پھر سے دنیا میں قائم کر دے۔یہ مقصد ہے جس کے لئے ہمیں کھڑا کیا گیا ہے اور جس کی خدا تعالیٰ ہم سے امید کرتا ہے اور یہ