انوارالعلوم (جلد 20) — Page 58
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸ دیباچهتفسیر القرآن ,, ایسا نہ ہو کہ آدم اپنا ہاتھ بڑھائے اور حیات کے درخت سے بھی کچھ لے کر کھائے اور ہمیشہ جیتار ہے“۔یہ آیت بتاتی ہے کہ آدم نے حیات کے درخت سے کچھ نہ کھایا تھا۔اب ہم نہیں کہہ سکتے کہ اس آیت کا مضمون درست ہے جو بتاتی ہے کہ آدم نے حیات کے درخت سے کچھ نہ کھایا تھا۔یا اس باب کی آیت ۲ درست ہے جس میں آدم کی بیوی کا قول درج ہے کہ سوائے نیک و بد کی پہچان کے درخت کے باقی سب درختوں کا پھل آدم اور حوا کھاتے تھے۔اور آیا یہ بات درست ہے کہ نیک و بد کی پہچان کے درخت کا پھل کھانے سے انسان ضرور مرتا ہے یا یہ بات درست ہے کہ حیات کے درخت کا پھل کھانے سے انسان کبھی نہیں مرتا۔یہ سب متضاد باتیں ہیں اور اللہ تعالیٰ کے کلام میں ایسی باتیں نہیں آسکتیں۔یقیناً یہ باتیں مختلف مصنفین نے اپنے اپنے خیالات کے مطابق تو رات میں درج کر دیں اور چونکہ اُن مصنفین کے خیالات متضاد تھے اس لئے اُن کے پیش کردہ نظریے بھی متضاد تھے۔اور جس کتاب میں متضاد باتیں آجائیں جو ایک ہی وقت میں اور ایک ہی انسان میں کسی صورت میں جمع نہ ہو سکیں اور وہ کتاب ان کو ایک ہی وقت اور ایک ہی انسان میں جمع کرتی ہو تو یقینا وہ خدا کی کتاب تو کی الگ رہی ایک عقلمند انسان کی کتاب بھی کہلانے کی مستحق نہیں ہو سکتی۔مگر موسیٰ علیہ السلام یقیناً خدا کے نبی تھے اور تورات یقیناً خدا کی نازل کردہ کتاب تھی پس یہ اختلاف بعد میں پیدا ہوا۔نہ اس اختلاف سے خدا تعالیٰ پر کوئی الزام آتا ہے اور نہ موسیٰ پر۔ہاں یہ ہم ضرور کہیں گے کہ خدا نے جب بائبل کی جگہ ایک اور کتاب نازل کرنے کا فیصلہ کر لیا تو بائبل کی حفاظت سے اُس نے ہاتھ کھینچ لیا اور وہ ایک محفوظ کتاب نہ رہی۔-1 پیدائش باب ۲۲ آیت ۱۴ میں لکھا ہے:۔” اور ابراہام نے اُس مقام کا نام ” یہوواہ یزی“ رکھا۔چنانچہ یہ آج تک کہا جاتا ہے کہ خدا وند کے پہاڑ پر دیکھا جائے گا“۔لیکن خروج باب ۲ آیت ۲ ،۳ میں لکھا ہے۔,, وو ' پھر خدا نے موسیٰ کو فرمایا اور کہا میں خداوند ہوں ” یہوواہ “۔اور میں نے