انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 52 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 52

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۲ دیباچهتفسیر القرآن غرض حضرت عزرا اور پانچ زود نو لیس چالیس روز تک دوسروں سے الگ تھلگ جا بیٹھے اور الہامی تائید سے انہوں نے چالیس دن میں دوسو چار کتابیں لکھیں۔چنانچہ اس باب کی چوالیسویں آیت میں لکھا ہے:۔``44۔In forty days they wrote two hundred and four اس حوالہ سے ظاہر ہے کہ :۔books۔۔۔۵۲ (الف) عزرا نبی کے وقت میں جو قریباً چار سو سال قبل مسیح تھا تو رات اور دیگر انبیاء کی کتابیں جل گئی تھیں۔(ب) ان کا نسخہ اُس وقت موجود نہ تھا۔(ج) عزرا نے دوبارہ وہ کتابیں لکھیں۔گویا یہ بتایا گیا ہے کہ وہ الہامی تھیں مگر مراد الہامی تائید ہے۔یہ مراد نہیں کہ ان کا ایک ایک نقطہ الہام تھا۔کیونکہ یہودی تاریخ بتاتی ہے کہ خود عزرا نے بعض حصوں کے مشکوک ہونے کا عتراف کیا تھا اور ان کا فیصلہ ایلیا پر اُٹھا رکھا تھا۔پس موجودہ تو رات وہ تو رات نہیں جو حضرت موسیٰ علیہ السلام پر نازل ہوئی تھی بلکہ وہ تو رات ہے جو عز رانے اپنے حافظہ سے لکھی تھی اور جس کے بعض حصوں کے متعلق خود عزرا کو بھی شبہ تھا بلکہ میں تو کہتا ہوں کہ یوں سمجھنا چاہئے کہ وہ یہ تو رات بھی نہیں ہے جو عزرا نے لکھی تھی کیونکہ عزرا نے ۲۰۴ کتابیں لکھی تھیں مگر ۲۰۴ کتابیں موجودہ بائبل میں ہمیں نہیں ملتیں۔عزرا کے حافظہ کے متعلق خود مسیحی مصنفوں کو بھی شبہات ہیں۔چنانچہ ریورنڈ آدم کلارک بائبل کے مشہور مسیحی مفسر اپنی تفسیر مطبوعہ ۱۸۹۱ء کے صفحہ ۱۶۸ پر ا۔تواریخ باب ۴ آیت ۷ کے ماتحت لکھتے ہیں: اس جگہ غلطی سے عزرا نے بیٹے کی جگہ پوتا لکھ دیا ہے۔ایسے اختلافوں میں تطبیق بے فائدہ ہے۔علمائے یہود کہتے ہیں کہ عزرا کو معلوم نہ تھا کہ بعض بعض کے بیٹے ہیں یا پوتے۔جب