انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 577 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 577

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷۷ احمدیت کا پیغام بڑھ جائے تو کیا ایران، شام، فلسطین اور مصر اپنے آپ کو پاکستان میں مدغم کرنے کے لئے تیار ہو جائیں گے؟ ظاہر ہے کہ نہیں۔وہ پاکستان کی عظمت کا اقرار کرنے کے لئے تیار ہوں گے، وہ اس سے ہمدردی کرنے کے لئے تیار ہوں گے مگر وہ اپنی ہستی کو اس میں مٹا دینے کے لئے تیار نہیں ہوں گے۔پس گوخدا تعالیٰ کے فضل سے مسلمانوں کی سیاسی حالت بہتر ہو رہی ہے اور بعض نئی اسلامی حکومتیں قائم ہو رہی ہیں لیکن باوجود اس کے دنیا بھر کے مسلمانوں کو ایک اسلامی جماعت نہیں کہہ سکتے۔کیونکہ وہ مختلف سیاستوں میں بٹے ہوئے ہیں اور الگ الگ حکومتوں میں تقسیم ہیں۔ان سب کی آواز کو ایک جگہ جمع کر دینے والی کوئی طاقت نہیں۔مگر اسلام تو عالمگیر ہونے کا دعویٰ کرتا ہے۔اسلام عرب کے مسلمانوں کا نام نہیں۔اسلام شام کے مسلمانوں کا نام نہیں۔اسلام ایران کے مسلمانوں کا نام نہیں۔اسلام افغانستان کے مسلمانوں کا نام نہیں۔جب دنیا کے ہر ملک کے مسلمان اسلام کے نام کے نیچے جمع ہو جاتے ہیں تو اسلامی جماعت وہی ہوسکتی ہے جو ان سارے گروہوں کو اکٹھا کرنے والی ہوا اور جب تک ایسی جماعت دنیا میں قائم نہ ہو ہم یہ کہنے پر مجبور ہیں کہ اس وقت مسلمانوں کی کوئی جماعت نہیں گو حکومت ہے جی اور سیاست ہے۔اسی طرح متحدہ پروگرام کا سوال ہے۔جہاں ایسا کوئی انتظام نہیں جو ساری دنیا کے مسلمانوں کو اکٹھا کر سکے وہاں مسلمانوں کا کوئی متحدہ پروگرام بھی نہیں۔نہ سیاسی نہ تمدنی نہ مذہبی۔منفردانہ طور پر کسی کسی جگہ پر کسی مسلمان کا دشمنانِ اسلام سے مقابلہ کر لینا یہ اور چیز ہے اور متحدہ طور پر ایک مخصوص نظام کے ماتحت چاروں طرف سے دشمن کے حملہ کا جائزہ لے کر اس کی کے مقابلہ کی کوشش کرنا یہ الگ بات ہے۔پس پروگرام کے لحاظ سے بھی مسلمان ایک جماعت نہیں۔ایسی صورت میں اگر کوئی جماعت قائم ہو اور مذکورہ بالا دونوں مقاصد کو لے کر قائم ہو تو کی اس پر یہ اعتراض نہیں کیا جاسکتا کہ وہ ایک نئی جماعت بن گئی ہے بلکہ یوں کہنا چاہئے کہ پہلے کوئی جماعت نہیں تھی اب ایک جماعت بن گئی ہے۔میں ان دوستوں سے جن کے دلوں میں یہ شبہ پیدا ہوتا ہے کہ باوجود ایک نماز ، ایک قبلہ، ایک قرآن اور ایک رسول ہونے کے پھر احمدی جماعت نے الگ جماعت کیوں بنائی ، کہتا ہوں