انوارالعلوم (جلد 20) — Page 576
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷۶ احمدیت کا پیغام یورپ ایک ایک مسلمان بادشاہ سے ڈرتا تھا اور اب یورپ اور امریکہ کی ایک ایک طاقت کا مقابلہ کرنے کی سکت سارے عالم اسلام میں بھی نہیں۔یہودیوں کی کتنی چھوٹی سی حکومت فلسطین میں بنی ہے۔شام، عراق، لبنان، سعودی عرب، مصر اور فلسطین کی فوجیں اس کا مقابلہ کر رہی ہیں۔لیکن حقیقت یہ ہے کہ یو۔این۔اونے جو علاقہ یہودیوں کو دیا تھا اُس سے بہت زیادہ اس وقت یہودیوں کے قبضہ میں ہے۔یہ درست ہے کہ یہودی حکومت کی مددا مریکہ اور انگلستان کر رہے ہیں لیکن سوال بھی تو یہی ہے کہ کبھی تو مسلمانوں کی ایک ایک حکومت سارے مغرب پر غالب تھی اور اب مغرب کی بعض حکومتیں سارے مسلمانوں سے زیادہ طاقتور ہیں۔پس جماعت کا جو مفہوم ہے اس وقت اس کے مطابق مسلمانوں کی کوئی جماعت نہیں۔حکومتیں ہیں جن میں سے سب سے بڑی پاکستان کی حکومت ہے جو اللہ تعالیٰ کے فضل سے اب قائم ہوئی ہے۔لیکن اسلام پاکستان کا نام نہیں۔نہ اسلام مصر کا نام ہے۔نہ اسلام شام کا نام ہے۔نہ اسلام ایران کا نام ہے۔نہ اسلام افغانستان کا نام ہے۔نہ اسلام سعودی عرب کا نام ہے۔اسلام تو اُس رشتہ کو حدت کا نام ہے جس نے سارے مسلمانوں کو یکجا کر دیا تھا اور ایسا کوئی انتظام اس وقت دنیا میں موجود نہیں۔پاکستان کو افغانستان سے ہمدردی ہے افغانستان کو پاکستان سے ہمدردی ہے لیکن نہ پاکستان افغانستان کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہے نہ افغانستان پاکستان کی ہر بات ماننے کے لئے تیار ہے۔دونوں کی سیاست الگ الگ ہے اور دونوں اپنے اندرونی معاملات میں آزاد ہیں۔یہی حال افراد کا ہے افغانستان کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔پاکستان کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔مصر کے باشندے اپنی جگہ پر آزاد ہیں۔ان کو ایک لڑی میں پرونے والی کوئی چیز نہیں۔پس اس وقت مسلمان بھی ہیں، مسلمانوں کی حکومتیں بھی ہیں اور ان میں سے بعض حکومتیں خدا تعالیٰ کے فضل سے مضبوط ہو رہی ہیں لیکن پھر بھی مسلمان ایک جماعت نہیں۔فرض کرو پاکستان کا بیڑہ اتنا مضبوط ہو جائے کہ تمام بحر الہند میں حکومت کرنے لگ جائے۔اس کی فوج اتنی مضبوط ہو جائے کہ ہندوستان یونین اس سے کانپنے لگ جائے۔اس کی اقتصادی حالت اتنی بڑھ جائے کہ دنیا کی منڈیوں پر اس کا قبضہ ہو جائے بلکہ اس کی طاقت اتنی بڑھ جائے کہ امریکہ کی طاقت سے بھی