انوارالعلوم (جلد 20) — Page 571
انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۷۱ احمدیت کا پیغام صلی اللہ علیہ وسلم سے ثابت ہو جائے اور اس کی علامت یہ ہے کہ وہ جو قول رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کیا جائے قرآن کریم کے مطابق ہو تو وہ بات ایک آخری فیصلہ ہے ایک نہ ٹلنے والا حکم ہے اور کوئی شخص اس بات کا حق نہیں رکھتا کہ وہ اس حکم کو رڈ کر دے یا اس کے خلاف زبان کھولے لیکن چونکہ حدیث کے راوی انسان ہیں اور ان میں نیک بھی ہیں اور بد بھی ہیں اور اچھے حافظوں والے بھی ہیں اور بُرے حافظوں والے بھی ہیں اور اچھے ذہن والے بھی ہیں اور کند ذہن بھی ہیں۔اگر کوئی ایسی حدیث ہو جس کا مفہوم قرآن کریم کے خلاف ہو تو چونکہ ہر ایک حدیث قطعی نہیں بلکہ خود ائمہ حدیث کے مسلمات کے مطابق بعض حدیثیں قطعی ہیں ، بعض عام درجہ کی ہیں، بعض مشکوک اور ظنی ہیں اور بعض وضعی ہیں اس لئے کی قرآن کریم جیسی قطعی کتاب کے مقابلہ میں جو حدیث آجائے گی اس کو تسلیم نہیں کیا جائے گا۔مگر جہاں قرآن کریم کی بھی کوئی نص صریح موجود نہ ہو اور حدیث بھی ایسے ذرائع سے ثابت نہ ہو جو یقین اور قطعیت تک پہنچاتے ہوں یا حدیث کے الفاظ ایسے ہوں کہ ان سے کئی معنی نکل سکتے ہوں تو اُس وقت یقیناً ائمہ فقہاء جنہوں نے اپنی عمریں قرآن کریم پر اور احادیث پر غور کی اور تدبر کرنے میں صرف کر دی ہیں اجتہاد کرنے کے مستحق ہیں اور ایک عامی آدمی جس نے نہ قرآن پر غور کیا ہے نہ حدیث پر غور کیا ہے یا جس کا علم اور تفقہ اس قابل ہی نہیں ہے کہ وہ غور کر سکے اس کا حق نہیں کہ وہ یہ کہے کہ امام ابو حنیفہ یا امام احمد یا امام شافعی یا امام مالک یا دوسرے ائمہ دین کو کیا حق ہے کہ ان کی بات کو مجھ سے زیادہ وزن دیا جائے۔میں بھی مسلمان ہوں اور وہ بھی مسلمان۔اگر ایک عامی آدمی اور ایک ڈاکٹر کا مرض کے متعلق اختلاف ہو تو ایک ڈاکٹر کی رائے کو عامی کی رائے پر ترجیح دی جاتی ہے اور قانون میں اختلاف ہو تو ایک وکیل کی رائے کو غیر وکیل کی رائے پر ترجیح دی جاتی ہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ دینی معاملات میں ان ائمہ کی رائے کو ترجیح نہ دی جائے جنہوں نے اپنی عمریں قرآن کریم اور حدیث پر تدبر کرنے میں صرف کر دی ہوں اور جن کے ذہنی قومی بھی دوسرے لاکھوں آدمیوں سے اچھے ہوں اور جن کے تقوی اور جن کی طہارت پر خدائی سلوک نے مہر لگا دی ہو۔غرض احمدیت نہ کلی طور پر اہل حدیث کی بات کی تائید کرتی ہے نہ کلی طور پر مقلدین کی