انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 46 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 46

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۶ دیباچہ تفسیر القرآن موسی دنیا میں آئے تھے بلکہ اُس کے صدیوں بعد ایسا ہوا۔موسوی تعلیم ایک بچے کا کوٹ تھا جو جوان ہو جانے کی صورت میں بنی اسرائیل کے جسم پر درست نہیں آ سکتا تھا۔مسیح نے ان مضحکہ خیز شکلوں کو دیکھا جو تنومند جوانوں کی شکل میں بچوں کے چھوٹے چھوٹے فراک پہنے پھر رہے تھے اور مسیح کی فطرت نے اس سے بغاوت کی انہیں بلکہ مسیح کے دل میں خدا کی آواز گونجی کہ۔دیکھو یہ لوگ اُس حالت سے آگے نکل چکے ہیں جس حالت میں موسوی تعلیم کا وہ نقشہ ان کے لئے کافی ہو سکتا تھا جو بنی اسرائیل کے علماء نے موسیٰ کے زمانہ میں کھینچا تھا۔اب ان کے لئے ایک نئے کوٹ کی ضرورت ہے مگر اس نے جو علاج ان کے لئے تجویز کیا یا زیادہ درست یہ ہے کہ جو علاج صدیوں بعد کے عیسائیوں نے مسیح کے منہ سے بیان کیا یہ تھا کہ شریعت لعنت ہے۔وہ کھانا جو انسان معدہ کی طاقت کو نظر انداز کر کے کھاتا ہے یقیناً ایک لعنت ہوتا ہے۔مگر اس قول سے بھی زیادہ اور کوئی احمقانہ قول نہیں کہ کھانا لعنت ہے۔بچے کا کوٹ بڑے آدمی کے جسم پر یقینا مضحکہ انگیز ہوتا ہے مگر بڑے کا کوٹ بچے کے جسم پر بھی تو مضحکہ انگیز ہوتا ہے۔ہم یہ تو کہہ سکتے ہیں کہ بچے کا کوٹ بڑے انسان کے جسم پر مضحکہ انگیز ہے۔ہم یہ بھی کہہ سکتے ہیں کہ بڑے کی آدمی کا کوٹ بچے کے جسم پر مضحکہ انگیز ہے مگر کوٹ کو مضحکہ انگیز تو کوئی بیوقوف ہی کہے گا۔پس میرے نزدیک تو مسیح کی طرف اس قول کو منسوب کرنا ظلم ہے۔یقینا مسیح نے یوں کہا ہوگا کہ موسوی تعلیم کی موجودہ تشریح آجکل کے زمانہ کے لوگوں کے لئے لعنت ہے۔اگر اس نے ایسا کہا تو بالکل سچ کہا۔مگر مسیح کے اتباع نے اس فاضلانہ قول کو ایک احمقانہ شکل دے دی۔مگر بہر حال خواہ مسیح نے وہ کہا جو میں سمجھتا ہوں کہ اُس نے کہا تھا اور خواہ وہ کہا جو عیسائیوں کے علمائے سابق نے غلطی سے سمجھا کہ اُس نے یہ کہا تھا۔بہر حال یہ تو ثابت ہے کہ انسانی دماغ موسی کے زمانہ سے ترقی کر کے آگے نکل چکا تھا اس کے لئے ایک نئی تعلیم کی ضرورت تھی ایک نئے اصول اخلاق کی کی ضرورت تھی۔ایک نئے تمدن کی ضرورت تھی اور ایک نئی تہذیب کی ضرورت تھی لیکن جہاں نی موسوی علماء نے انسان کی گردن میں رستہ لپیٹ کر اُس کو درخت کے ساتھ باندھ دیا تھا وہاں عیسوی تعلیم نے انسان کو تمام اخلاقی اور مذہبی قیود اور پابندیوں سے آزاد کر کے حیوان بنا دیا۔موسوی قانون نے یہودی دماغ کو اپنے زمانہ سے آگے بڑھنے سے روک دیا۔سوائے اس کے