انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 544 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 544

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۴۴ محمد صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں۔۔۔قائم ہوگی پیدا کرتے رہیں۔ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان میں تنظیم پیدا کریں، ہمارے لئے ضروری ہے کہ ان کی تعلیم اور تربیت کا خیال رکھیں اور یہ چیز بڑے شہروں میں حاصل نہیں ہوسکتی کیونکہ وہاں جماعت بکھری ہوئی ہوتی ہے۔پس با وجود اس کے کہ ہمیں شہروں میں جگہیں مل سکتی تھیں ہم نے ان کی پرواہ نہیں کی اور اس وادی غیر ذی زرع کو اس ارادہ اور نیت کے ساتھ چنا ہے کہ جب تک یہ عارضی مقام ہمارے پاس رہے گا ہم اسلام کا جھنڈا اس مقام پر بلند رکھیں گے اور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی حکومت دنیا میں قائم کرنے کی کوشش کریں گے اور جب خدا ہمارا قادیان ہمیں واپس دے دے گا یہ مرکز صرف اس علاقہ کے لوگوں کے لئے رہ جائے گی گا۔یہ مقام اُجڑے گا نہیں کیونکہ جہاں خدا کا نام ایک دفعہ لے لیا جائے وہ مقام بر باد نہیں کی ہوا کرتا۔پھر یہ صرف اس علاقہ کے لوگوں کا مرکز بن جائے گا اور ساری دنیا کا مرکز پھر قادیان بن جائے گا جو حقیقی اور دائمی مرکز ہے۔پس ہم یہاں آئے ہیں اس لئے کہ خدا کا نام اونچا کریں۔ہم اس لئے نہیں آئے کہ اپنے نام کو بلند کریں۔ہمارا نام شہروں میں زیادہ اونچا ہوسکتا تھا اور ہم اگر اپنے نام کو بلند کرنے کی خواہش رکھتے تو اس کے لئے بڑے شہر زیادہ موزوں تھے بلکہ خود ان شہروں کے رہنے والوں نے بھی خواہش کی تھی کہ وہیں جماعت کے لئے زمینیں خرید لی جائیں۔چنانچہ لاہور، کوئٹہ اور کراچی میں چوٹی کے آدمی مجھ سے ملنے کے لئے آتے اور خواہش کرتے تھے کہ انہی کے شہروں میں ہم رہائش اختیار کریں۔کراچی میں بھی لوگوں نے یہی خواہش کی اور کوئٹہ میں بھی لوگوں نے یہی خواہش کی۔غرض اس میں کوئی شبہ نہیں کہ ہمیں ظاہری عزت شہروں میں زیادہ ملتی تھی مگر ہمارا کام اپنے لئے ظاہری عزت حاصل کرنا نہیں بلکہ ہمارا کام یہ ہے کہ ہم اس جگہ کی تلاش کر یں جہاں اسلام کی عزت کا بیج بوسکیں اور ہم نے اسی نیت اور ارادہ کے ساتھ اس وادی غیر ذی زرع کو چنا ہے۔چنانچہ دیکھ لو یہاں کوئی فصلیں نہیں ، کہیں سبزی کا نشان نہیں گو یا چن کر ہم نے وہ مقام لیا ہے جو قطعی طور پر آبادی اور زراعت کے ناقابل سمجھا جاتا تھا تا کہ کو ئی شخص یہ نہ کہہ دے کہ پاکستان نے احمدیوں پر احسان کیا ہے مگر کہنے والوں نے پھر بھی کہہ دیا ہے کہ کروڑوں کروڑ کی جائداد پاکستان نے احمدیوں کو دے دی ہے۔یہ زمین ہم نے دس رو پیدا یکٹر پر خریدی ہے اور یہ زمین