انوارالعلوم (جلد 20) — Page 42
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۲ دیباچہ تفسیر القرآن سکے گی۔اسی طرح ایک صنعت و حرفت میں پیچھے رہ جانے والا ملک صنعت وحرفت میں ترقی کر جانے والے ملک کا مقابلہ لباس اور مکان اور مکان کے فرنیچر میں بھی نہیں کر سکتا۔مکانوں کی حفاظت اور نگہداشت میں بھی نہیں کر سکتا کیونکہ اُس ملک کے پاس اتنے کپڑے نہیں ہوں گے کہ اُس کے ماہر اس فکر میں لگ جائیں کہ وہ کپڑے کس کس شکل میں استعمال کئے جائیں۔مختلف کوٹوں کی ساخت اور ان کے استعمال کے مواقع تو الگ رہے ان لوگوں کو تو کپڑے کی کمی کی وجہ سے خودکوٹ کا بھی خیال نہیں آسکتا۔بلکہ وہ لوگ تو کرتے کو بھی ایک عیاشی سمجھیں گے۔بکر وٹے کے چمڑے کے بوٹ تو الگ رہے اُن لوگوں کے لئے تو بھینس کے صاف شدہ چمڑے کے بوٹوں پر اصرار کرنا بھی ناممکن ہو گا۔بلکہ ان کے لئے تو جوتی بھی ایک عیاشی کا خیال ہوگی اور وہ یا تو ننگے پاؤں پھرنے کو زندگی کا ایک معمول سمجھیں گے یا بالوں والے چھڑے تسموں کے ساتھ پیر میں باندھ کر یہ خیال کریں گے کہ ہم ایک نعمت عظمی کے مالک ہو گئے ہیں۔چونکہ میں یہ مضمون ضمناً لکھ رہا ہوں اس کی تفصیلات بیان نہیں کرتا لیکن ایک ادنی تدبر سے یہ بات سمجھ میں آسکتی ہے کہ زندگیوں کا یہ فرق محض زراعت، صنعت و حرفت ، سائنس اور تعلیم کے فرق کا نتیجہ ہے۔مگر فرق اتنا بڑا ہے کہ ایک قسم کی زندگی کے عادی لوگ دوسری قسم کی زندگی کے عادی لوگوں کے ساتھ مل کر بیٹھنا بھی برداشت نہیں کر سکیں گے۔یہی چیز میرے نزدیک تمدن یعنی سویلیز میشن کہلاتی ہے اور اس کے اختلافات پر دنیا کی صلح اور دنیا کی جنگ کا بہت کچھ انحصار ہے۔یہی تمدن آخرا مپیریل ازم اور خواہش عالمگیری انسان کے دل میں پیدا کرتا ہے۔دوسری چیز تہذیب یعنی کلچر ہے اس کو تمدن سے وہی نسبت ہے جو روح کو جسم سے ہے۔تمدن مادی ترقی کا نتیجہ ہے اور تہذیب دماغی ترقی کا نتیجہ ہے۔تہذیب یعنی کلچر اُن افکار اور اُن خیالات کا نتیجہ ہے جو کسی قوم میں مذہب یا اخلاق کے اثر کے نیچے پیدا ہوتے ہیں۔مذہب ایک بنیاد قائم کرتا ہے اور مذہب کے پیرو اُس بنیاد پر ایک عمارت کھڑی کرتے ہیں۔خواہ وہ بنیاد رکھنے والے کے خیالات سے کتنے بھی دور چلے جائیں وہ بنیاد کو چھوڑ نہیں سکتے۔جس شخص نے عمارت کی بنیا د رکھی ہو اُس کے نقشہ سے عمارت بنوانے والے کے نقشہ کو کتنا بھی اختلاف ہو پھر بھی وہ بنیاد کے کونوں اور زاویوں سے آزاد نہیں ہو سکتا۔اسی طرح دنیا میں مختلف مذاہب اور