انوارالعلوم (جلد 20) — Page 499
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹۹ دیباچہ تفسیر القرآن (۳) انسان چونکہ روحانی ترقی کے لئے پیدا کیا گیا ہے اس لئے ایک حد تک اُس کو اپنے عمل میں ایک حد تک آزادی بھی ملنی چاہئے اور اسے ترقی کے لئے کچھ نہ کچھ میدان ملنا چاہئے۔(۴) چونکہ انسان جن ذرائع سے کام لے کر ترقی کرے گا وہ ذرائع در حقیقت کل بنی نوع انسان کی مشترک ملکیت ہیں اس لئے انسانی عمل کے محاصل کو ایسے اصول پر تقسیم کرنا چاہئے کہ فرد کو بھی اُس کا حق مل جائے اور قوم کو بھی اس کا حق مل جائے۔(۵) انسانی نظام تمدن کے چلانے کے لئے ایک حاکم ہونا ضروری ہے اور اس حاکم کے لئے یہ ضروری ہے کہ وہ بنی نوع انسان کے مشورہ سے منتخب کیا جائے اس حاکم کا کام قانون بنانا کی نہیں بلکہ الہی قانون کو نافذ کرنا ہے۔(۶) لیکن چونکہ ضروری نہیں کہ ایک وقت میں ساری دنیا میں ایک ہی نظام ہو اس لئے قرآن کریم نے یہ بھی تعلیم دی ہے کہ:۔(الف) اگر ایک وقت میں دنیا میں کئی حکومتیں ہوں اور اُن میں سے بعض میں اختلاف پیدا ہو جائے تو دوسری حکومتیں مل کر اُن دونوں کے اندر صلح کرا ئیں۔( ب ) اگر صلح ہو جائے تو فبہا اور اگر صلح نہ ہو سکے تو دنیا کی باقی حکومتیں مل کر ایک عادلانہ فیصلہ دیں جس کو ماننے کے لئے دونوں حکومتوں کو مجبور کیا جائے۔(ج) اگر ایسے فیصلہ کو کوئی فریق نہ مانے یا ماننے کے بعد اس پر عمل کرنے سے انکار کر دے تو ساری طاقتیں مل کر اس سے لڑیں اور اُسے مجبور کریں کہ وہ دنیا کے امن کی خاطر حکومتوں کی پنچائت کے فیصلہ کو تسلیم کرے۔(1) جب اس پنچائتی دباؤ یا لڑائی سے وہ حکومت صلح کی طرف مائل ہو جائے تو یہ حکومتوں کی تی پنچائت بغیر کوئی ذاتی فائدہ اُٹھانے کے صرف اس امر کے متعلق فیصلہ نافذ کر دے جس کی سے جھگڑے کی ابتداء ہوئی تھی اور مغلوب ہونے والی حکومت سے کوئی زائد فائدے اپنے کی لئے حاصل نہ کرے کیونکہ اس سے نئے فسادات کی بنیاد میں قائم ہوتی ہیں۔یہ وہ تعلیم ہے جو قرآن کریم نے آج سے پونے چودہ سو سال پہلے دی تھی آج یو نائیٹیڈ نیشنز آرگنا ئز یشن