انوارالعلوم (جلد 20) — Page 491
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۹۱ دیباچہ تفسیر القرآن صورت بنائی اور پھر اس میں روح پھونک دی بلکہ جیسا کہ خدا تعالیٰ کی اور سنتیں ظاہر ہوئی ہیں وہ می بھی تدریجی تغیرات کے بعد ظاہر ہوا ہے۔چنانچہ سورۃ نوح میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے وقَدْ خَلَقَكُمْ أطوارًا ۵۸٠، تمہیں خدا تعالیٰ نے ایک درجہ کے بعد دوسرے درجہ اور ایک کیفیت کے بعد دوسری کیفیت میں تبدیل کرتے ہوئے آہستہ آہستہ پیدا کیا ہے۔پس انسان کی پیدائش قرآنی تعلیم کے مطابق یکدم نہیں ہوئی بلکہ آہستہ آہستہ ہوئی ہے اور انسان کا دماغی ارتقاء بھی یکدم نہیں ہوا ، بلکہ وہ بھی آہستہ آہستہ ہوا ہے۔قرآن کریم سے معلوم ہوتا ہے کہ آدم سے پہلے انسانی مخلوق موجود تھی ، مگر ظاہری شکل میں ابھی وہ خدا تعالیٰ کی شریعت کی حامل نہ ہو سکتی تھی ، وہ مخلوق غاروں اور پہاڑوں کی کھو ہوں میں رہتی تھی۔اس لئے قرآن کریم نے ان کا نام جن رکھا ہے۔جن کے معنی عربی زبان میں پوشیدہ رہنے والے کے ہیں بعض لوگوں نے اس لفظ کو روایتی جن پر محمول کیا ہے ، حالانکہ قرآن کریم کی تشریح ان روایتی جنوں پر صادق نہیں آتی۔قرآن کریم میں صاف لکھا ہے کہ بنو آدم کے جنت سے نکلنے پر ( جنت بھی ارضی تھی وہ جنت نہ تھی جس میں مرنے کے بعد انسان جائے گا ) اللہ تعالیٰ نے حکم دیا کہ ابلیس ( جو جنوں میں سے تھا ) اور اس کے ساتھیوں سے ہوشیار رہنا اور ان کے دھوکوں میں نہ آنا، کیونکہ تمہیں ان لوگوں کے ساتھ مل جل کر رہنا ہوگا۔اسی دنیا میں تم دونوں گروہ رہو گے اور اسی میں مرو گے۔پس ان سے ہوشیار رہنا ۵۸۱ ، اور پھر آدم کے ساتھیوں اور ابلیس کے ساتھیوں کو مخاطب کر کے کہا گیا ہے کہ جب تم میں نبی آئیں تو تم اُن پر ایمان لانا۔۵۸۲ ان حوالوں سے ظاہر ہے کہ آدم کے وقت جن اور ان کا سردار ابلیس در حقیقت بشری نسل میں سے تھے۔ورنہ جن نہ تو انسانوں کے ساتھ مل جل کر رہتے ہیں اور نہ بنی نوع انسان سے ان کا کوئی تعلق ہے۔پس قصوں والے جن اور ہیں اور ان کا ذمہ وار قصہ نو لیس ہے۔قرآن کریم نے جن کو جن کہا ہے، وہ بشری نسل سے ہی ہیں اور یہ ان لوگوں کا نام ہے جو شروع زمانہ میں اس دنیا پر پائے جاتے تھے جن کے دماغ کی پورے طور پر نشو ونما کو نہ پہنچے تھے۔جب دماغ کے پورے نشو و نما کا وقت آیا تو سب سے کامل انسان آدم پر اللہ تعالیٰ کا الہام نازل ہوا اور بعض تمدنی قواعد مثلاً مل جل کر رہنے اور ایک دوسرے کی غذا کی ذمہ داری لینے کی قسم کے موٹے موٹے احکام حضرت آدم پر نازل ہوئے۔