انوارالعلوم (جلد 20) — Page 485
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۸۵ دیباچہ تفسیر القرآن کرتا ہے۔باری کا لفظ اس بات کی طرف اشارہ کرتا ہے کہ اللہ تعالیٰ مخلوق کے مختلف ظہور شروع می کرتا ہے اور پھر وہ ایک ایسا قانون مقرر کر دیتا ہے کہ وہ چیز اپنی نسل کی تکرار کرتی چلی جاتی ہے اور اس پر خدا تعالیٰ کا نام المعید دلالت کرتا ہے۔المصور کا لفظ اس بات پر دلالت کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ نے ہر چیز کو ایک خاص شکل دی ہے جو اس کے مناسب حال ہے۔صرف کسی چیز کے اندر کسی خاصیت کا پیدا کر دینا ہی کافی نہیں ہوتا بلکہ اسے مناسب حال شکل دینا بھی ضروری می ہوتا ہے اس کے بغیر کام نہیں چل سکتا۔اسی طرح کسی چیز کا محض پیدا ہو جانا کافی نہیں بلکہ اس کا ایسی شکل میں پیدا ہونا بھی کہ وہ اپنے کام کو سرانجام دے سکے ضروری ہوتا ہے پس اس صفت کے اظہار کے لئے خدا تعالیٰ کا ایک نام المصور ہے۔الرَّب کی صفت ان معنوں پر دلالت کرتی ہے کہ پیدا کرنے کے بعد اس کی طاقتوں کو تدریجی طور پر بڑھاتے چلے جانا اور کمال تک پہنچانا۔ظاہر ہے کہ پہلی صفات اس مضمون کو ادا نہیں کرتیں۔اسی طرح اور کئی صفات ہیں جو بظا ہر مکرر نظر آتی ہیں مگر در حقیقت ان کے اندر باریک فرق ہے اور اس فرق کے سمجھ لینے کے بعد وہ روحانی نظام جس کو قرآن کریم پیش کرتا ہے نہایت ہی شاندار اور خوبصورت طور پر انسان کی آنکھوں کے آگے آجاتا ہے۔یہ صفات جو قرآن کریم نے بیان کی ہیں اور جن کا ایک حصہ میں نے اوپر درج کیا ہے انجیل میں تو ان کا بہت ہی کم ذکر ہے۔تو رات اور دوسرے انبیاء کے صحف میں بھی فرداً فرداً یہ ساری صفات بیان نہیں ہوئیں ہاں بنی اسرائیل کے تمام انبیاء کی کتابوں کو جمع کیا جائے تو پھر ان میں سے بہت سی صفات کا ذکر ان میں آجاتا ہے مگر ساری صفات کا ذکر پھر بھی نہیں آتا۔درحقیقت مسلمانوں میں جو عام طور پر یہ مشہور ہے کہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام ہیں یہ عقیدہ ان یہودی روایات سے ہی وابستہ ہے جو انہوں نے تو رات سے صفات الہیہ اخذ کر کے بنائی ہیں ورنہ قرآن کریم میں ننانوے سے بہت زیادہ نام مذکور ہیں جن کے میں سے ایک سو چار نام تو میں نے اوپر بیان کر دیئے ہیں اور ابھی بہت سے باقی ہیں اور حقیقت یہ ہے کہ اللہ تعالیٰ کی وہ صفات جن کا انسان کے ساتھ تعلق نہیں ان کے قرآن کریم میں بیان کرنے کا کوئی فائدہ نہ تھا اور یقیناً وہ قرآن کریم میں بیان نہیں ہوئیں پس کسی خاص تعداد میں خدا تعالیٰ کے ناموں کو محمد دو کرنا درست نہیں اور اگر اسلامی لٹریچر میں اس قسم کا کوئی ذکر پایا جاتا ہے