انوارالعلوم (جلد 20) — Page 458
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۸ دیباچہ تفسیر القرآن ماحول اس جیسا اچھا نہیں اُس کے رستہ کی روکوں کو بھی نظرانداز نہیں کیا جائے گا اور فیصلہ کے وقت اُنہیں بھی مد نظر رکھا جائے گا۔قرآن ایمان پر بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ ایمان کیا چیز ہے ، ایمان کی علامتیں کیا ہیں ، ایمان کے حصول کے ذرائع کیا ہیں وہ قانونِ شریعت اور اُس کی ضرورت کے متعلق بھی روشنی ڈالتا ہے اور بتاتا ہے کہ خدا تعالیٰ کا قانون بھی بغیر حکمت کے نہیں ہوتا۔خدا تعالیٰ اپنے بندے کو کوئی حکم اس لئے نہیں دیتا کہ وہ اسے سزا دے اور اس پر بو جھ ڈالے بلکہ وہ ہر حکم اس لئے دیتا ہے کہ وہ انسان کی ترقی کی منزل میں مرد اور معاون اور اس کی تمدنی حالت کو سدھارنے والا ہوتا ہے قرآن جبری حکموں کا قائل نہیں وہ اس حق کو تسلیم کرتا ہے کہ خدا بھی جس شخص کو سزا دے اس شخص کو اپنی ذات سے الزام کو دور کرنے کا پورا موقع ملنا چاہئے اور اس کے اُوپر پوری طرح حجت تمام ہونی چاہئے خواہ کوئی کتنا ہی بڑا مجرم ہومگر اُس پر حجت تمام ہوئے بغیر قرآن اُس کی سزا کا قائل نہیں۔عبادت کی چار اصولی قسمیں قرآن عبادت الہی سے تعلق بھی تفصیل روشنی (01 ڈالتا کی ہے وہ عبادت کو چار اُصولی حصوں میں تقسیم کرتا ہے (۱) وہ عبادت جس کی غرض خدا تعالیٰ کے ساتھ محبت اور اس کے ساتھ تعلق بڑھانا ہے۔(۲) وہ عبادت جو انسان کے جسم کی اصلاح کے لئے قربانیاں کرنے پر آمادہ کرنے کے لئے ہے۔ہوتی ہے۔(۳) وہ عبادت جو انسانوں کے اندر مرکزیت پیدا کرنے کے لئے اور اتحاد و یگانگت کا احساس پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔(۴) وہ عبادت جو بنی نوع انسان کی اقتصادی حالتوں میں یکسوئی اور یکرنگی پیدا کرنے کے لئے مقرر کی جاتی ہے۔یہ چار اصول عبادت کے اسلام مقرر کرتا ہے اور ان چار اُصول کے مطابق اس نے مختلف قسم کی عبادتیں مقرر کی ہیں۔اِن اُصول کو تجویز کر کے اسلام نے یہ نظریہ پیش کیا ہے کہ عبادت صرف اسی بات کا نام نہیں کہ انسان خدا تعالیٰ کی طرف دھیان دے بلکہ بنی نوع انسان کی طرف توجہ کرنے سے بھی خدا تعالیٰ کی عبادت کا فرض ادا ہوتا ہے۔اسی طرح اسلام نے یہ نکتہ بھی پیش کیا ہے کہ عبادات صرف انفرادی نہیں بلکہ وہ