انوارالعلوم (جلد 20) — Page 451
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۱ دیباچہ تفسیر القرآن ہے کہ وہ آپ کے پکڑے جانے پر سو اونٹ کا انعام مقرر کرتا ہے، لیکن باوجود اس کے کہ کھوجی کی کہتا ہے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کھوج یہاں تک آتا ہے ، آگے نہیں جاتا۔مکہ کے لوگوں کی آنکھوں اور اُن کے دلوں پر خدا تعالیٰ ایسا قبضہ کر لیتا ہے کہ تین میل کے تعاقب کرنے کے بعد اور اتنا انعام شائع کر دینے کے بعد اُن میں سے کسی شخص کو توفیق نہیں ملتی کہ وہ غار کے اندر جھانک سکے اور وہیں سے سب مکہ والے لوٹ جاتے ہیں۔اس سے بڑا معجزہ دنیا میں اور کیا ہوگا۔پھر قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ جنگ بدر کے متعلق فرماتا ہے کہ اس موقع پر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکریوں کی ایک مٹھی پھینکی اور اُس کے ساتھ دشمن تہ و بالا ہو گیا ۵۵۹ حدیثوں سے اس واقعہ کی تفصیل یوں معلوم ہوتی ہے کہ جب بدر کی جنگ شدت اختیار کر رہی تھی اور کفار کا زور بڑھ رہا تھا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کنکروں کی ایک مٹھی اُٹھا کر کی دشمنوں کی طرف پھینکی اور فرمایا شَاهَتِ الْوُجُوهُ دشمنوں کے منہ بگڑ جائیں۔تب خدا تعالیٰ نے آپ کے اس فعل کے ساتھ ہی ایک تیز آندھی چلا دی جسکی وجہ سے اُس میدان سے جس میں مسلمان کھڑے تھے ریت کے تو دے اُڑ اُڑ کر کفار کی آنکھوں میں پڑنے شروع ہوئے اور وہ کی دیکھنے سے معذور ہو گئے اور اُن کے تیر مخالف ہوا کی شدت کی وجہ سے آدھے راستے میں ہی گرنے لگ گئے اور مسلمانوں کو ایک غیر معمولی طاقت اور قوت حاصل ہو گئی۔کیا یہ معجزہ نہیں؟ اور کیا اس واقعہ کو بیان کر کے قرآن کریم نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف معجزہ منسوب نہیں کیا ہاں قرآن کریم اس قسم کی جاہلانہ باتیں نہیں کہتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم حقیقی مردے زندہ کیا کرتے تھے۔یا سورج اور چاند کی رفتار کو ٹھہرا دیا کرتے تھے۔یا دریاؤں کو کھڑا کر دیتے تھے یا پہاڑوں کو چلایا کرتے تھے۔یہ تو پنگھوڑے میں کھیلنے والے بچوں کی کہانیاں ہیں۔ان باتوں کو قرآن کریم نہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی طرف منسوب کرتا ہے نہ کسی اور نبی کی طرف منسوب کرتا ہے بلکہ اگر پہلی کتب میں اس قسم کی باتیں بیان بھی ہوئی ہیں تو قرآن کریم ان کی تشریح کرتا ہے اور بتاتا ہے کہ یہ باتیں محض استعارہ ہیں لوگوں نے ان کو حقیقی رنگ دینے میں غلطی کی ہے۔