انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 450 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 450

انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۵۰ دیباچہ تفسیر القرآن اسلوب سے لاعلمی ہوتی ہے۔قرآن کریم میں جہاں یہ بیان فرمایا گیا ہے کہ ہمیں معجزہ کے بھیجنے سے کسی بات نے نہیں روکا سوائے اس کے کہ پہلے لوگ معجزات کا انکار کرتے چلے آئے ہیں وہاں آیت کے یہ معنی نہیں جیسا کہ عیسائی مصنفین سمجھے ہیں کہ اس وجہ سے ہم معجزہ دکھانے سے رُک گئے ہیں بلکہ اس کا مطلب تو یہ ہے کہ معجزہ دکھانے میں روک ہی کونسی ہے۔صرف اتنی ہی چی روک ہو سکتی ہے کہ پہلے لوگوں نے معجزہ کا انکار کیا تو یہ کوئی روک نہیں، باوجود اس کے کہ ابتدائی کی انبیاء کے دشمنوں نے ان کے معجزوں کو رڈ کیا ، ان کے بعد آنے والے انبیاء کو بھی معجزات ملتے رہے۔پھر کیا وجہ ہے کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو منجزات نہ ملیں۔یا جب کفار کے مطالبہ پر محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی زبان سے یہ کہا جاتا ہے کہ میں تو تمہاری طرح کا ایک بشر ہوں۔تو اس میں یہ نہیں بتایا جاتا کہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے ہاتھ پر منجزات ظاہر نہیں ہوتے بلکہ اس جگہ صرف یہ بتایا جا تا ہے کہ معجزہ دکھا نا محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا کام نہیں خدا تعالیٰ کا کام ہے۔کیا اس زبر دست حقیقت کا اظہار قرآن کریم کی شان بڑھاتا ہے یا گھٹاتا ہے؟ وہ لوگ جو سمجھتے ہیں کہ خدا تعالیٰ نے خدائی کے اختیار بندوں کو دے دیئے ہیں وہ سچائی کے پیرو کہلا سکتے ہیں یا وہ جو اپنی بشریت کا اظہار کرتے ہوئے اس حقیقت کو پیش کرتا ہے کہ خدا تعالیٰ ہمیشہ اپنے پیارے بندوں کے واسطہ سے معجزہ دکھاتا ہے۔علاوہ پیشگوئیوں کے قرآن کریم میں دوسری قسم کے معجزات کا بھی ذکر آتا ہے۔مثلاً قرآن کریم میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے اس معجزہ کا ذکر آتا ہے کہ غار ثور میں جب آپ پناہ گزیں تھے ، تو مکہ والے کھوجیوں کو لے کر آپ کا کھوج نکالتے ہوئے غار ثور تک پہنچ گئے۔قرآن کریم میں اللہ تعالیٰ فرماتا ہے کہ اُس وقت حضرت ابوبکر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خاطر گھبرائے مگر آپ نے فرمایا لا تحزن إن الله معنا ۵۵۸ گھبراؤ نہیں خدا ہمارے کی ساتھ ہے۔دشمن ہمارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔کیا یہ معجزہ نہیں جس کو قرآن کریم بیان کرتا ہے کیا دنیا کی اس کی مثال پیش کر سکتی ہے !! دو آدمی بے سرو سامان ایک غار میں بیٹھے ہیں۔دشمن اُن کا تعاقب کرتا ہوا وہاں پہنچ گیا ہے اور یونہی رسمی طور پر نہیں بلکہ حقیقی طور پر وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اور آپ کے ساتھی کے بھاگنے کو اپنی شکست تصور کرتا ہے اور اسے اتنا اہم معاملہ سمجھتا