انوارالعلوم (جلد 20) — Page 444
انوار العلوم جلد ۲۰ ۴۴۴ دیباچهتفسیر القرآن عليك القُرآن كراد إلى مَعَادٍ ۵۴۹، یعنی وہ خدا جس نے تجھ پر قرآن نازل کیا اور کی اس کی اطاعت فرض کی ہے وہ تجھے اپنی ذات ہی کی قسم کھا کر بتاتا ہے کہ وہ تجھ کو دوبارہ مکہ میں کو ٹا کر لائے گا۔اس خبر میں نہ صرف یہ بتایا گیا ہے کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو مکہ سے ہجرت کرنی پڑے گی بلکہ یہ بھی بتایا گیا تھا کہ ہجرت کے بعد آپ فاتح کی صورت میں مکہ میں داخل ہوں گے کیا ان حالات میں جو محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو پیش آرہے تھے آپ اپنے پاس سے ایسی خبر بنا سکتے تھے؟ (۵) اس مفہوم کی قرآن کریم میں ایک اور پیشگوئی بھی ہے اور وہ بھی مکی سورتوں میں نازل ہوئی، اللہ تعالیٰ فرماتا ہے۔وَقُلْ رَبِّ ادْخِلْنِي مُدْخَلَ صِدْقٍ وَ اخْرِجَيْنِ مُخْرَجَ صِدْقٍ وَاجْعَلْ لِي مِن لَّدُنكَ سُلْطنًا نَّصِيرً) ۵۵۰ یعنی کہ اے میرے ربّ! مجھے اس شہر میں جہاں تو بھیج رہا ہے کامیابی کے ساتھ داخل کر اور پھر مجھے کچھ عرصہ کے بعد اس شہر سے کامیابی کے ساتھ حملہ آور ہونے کا موقع عطا فرما اور اس حملہ میں میرا مددگار اور ناصر بن۔اس میں بتایا گیا ہے کہ آپ ہجرت کر کے مدینہ تشریف لے جائیں گے اور پھر مدینہ سے مکہ پر حملہ کریں گے اور خدا کی مدد سے مکہ فتح کریں گے۔(۶) اسی طرح آپ مکہ میں ہی تھے کہ آپ کو الہام ہوا۔اقْتَرَبَتِ السَّاعَةُ وَانْشَقَّ القمرُ ۵۵١ اسلام کی ترقی کا وقت آگیا ہے اور عرب کی حکومت تباہ کر دی گئی۔چاند عرب کا نشان تھا۔چنانچہ جب کوئی شخص خواب میں چاند دیکھے تو اس کے معنی یہ ہوتے ہیں کہ اُسے عرب کی حکومت کے حالات بتائے گئے ہیں۔پس چاند کے پھٹنے کے یہ معنی تھے کہ عرب کی حکومت تباہ ہو جائے گی۔اُس وقت جب آپ کے صحابہ دنیا میں چاروں طرف جان بچائے بھاگے پھرتے تھے جب رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کا گلا گھونٹا جاتا تھا اور آپ کی گردن میں پٹکے ڈالے جاتے تھے۔جب خانہ کعبہ میں نماز پڑھنے کی بھی آپ کو اجازت نہیں تھی اور جب سارا مکہ آپ کی مخالفت کی کی آوازوں سے گونج رہا تھا اُس وقت محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مکہ والوں کو یہ خبر دی کہ عرب کی حکومت کی تباہی کا خدا نے فیصلہ کر دیا ہے اور اسلام کے غلبہ کا وقت آ گیا ہے۔پھر کس طرح چندسال کے بعد ہی یہ پیشگوئی پوری ہوئی۔قیدار کی ساری حشمت تو ڑ دی گئی۔اسلام کا جھنڈا بلند کر دیا گیا۔چاند پھٹ گیا۔قیامت آگئی اور ایک نیا آسمان اور ایک نئی زمین بنادی گئی۔