انوارالعلوم (جلد 20) — Page 31
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۱ دیباچهتفسیر القرآن اسی طرح فرماتا ہے۔يمعشر الجن والانس الم يَأْتِكُمْ رُسُلُ مَنْكُمْ يَقُصُّونَ عَلَيْكُمْ أَيْتِي وَيُنذِرُونَكُمْ لقاء يومكم هذا ۲۳ یعنی اے جنوں اور انسانوں کے گروہ! کیا تمہارے پاس تمہیں میں سے ایسے رسول نہیں آئے جو تمہیں ہمارے نشانات سے آگاہ کیا کرتے تھے اور اس دن کے عذاب سے ڈرایا کرتے تھے؟ ایک اور جگہ فرماتا ہے۔۲۴ فار سَلْنَا فِيْهِمْ رَسُولًا يَنْهُمْ أَنِ اعْبُدُوا اللَّهَ مَا لَكُمْ مِّنَ الهِ غَيْرُة ہم نے ان لوگوں میں انہیں میں سے ایک رسول بھیجا جس کی تعلیم یہ تھی کہ اللہ تعالیٰ کی ہی عبادت کرو۔اس کے سوا کوئی معبود نہیں۔پھر فرماتا ہے ويوم نَبْعَثُ فِي كُلّ أُمَّةٍ شَهِيدًا عَلَيْهِمْ مِّنْ أَنْفُسِهِمْ ۲۵ یعنی قیامت کے دن ہم ہر قوم کے خلاف خود اُنہی میں سے ایک رسول کھڑا کریں گے اس جگہ شہید سے مراد ہر وہ نبی ہے جو کسی قوم کی طرف مبعوث ہوا۔یعنی قیامت کے دن وہ انبیا ء اپنے نمونہ کو پیش کریں گے کہ کلام الہی نے اُن پر کیا اثر کیا۔اس طرح خدا تعالیٰ کفار کو شرمندہ کرے گا کہ ہمارا یہ نبی تو اس کمال کو پہنچ گیا اور تم انکار کر کے تمام ترقیات سے محروم رہ گئے۔اس جگہ تمام انبیاء کے متعلق یہ بتایا گیا ہے کہ وہ من اَنفُسِهِم تھے یعنی ہر وہ قوم جس کی طرف وہ مبعوث کئے گئے ان میں سے ہر ایک کو جانتی تھی اور وہ ان لوگوں کی پاکیزگی اور طہارت کی شاہد تھی۔علاوہ ازیں اللہ تعالیٰ نے قرآن کریم میں یہ بھی کئی مقامات پر فرمایا ہے کہ وإلى عادٍ آنَاهُمْ هُودًا وَإلَى ثَمُودَ أَخَاهُم طراحا ٢ وإلى مدين ٢٦ أَخَاهُمْ شُعَيْبًا ۲ یعنی عاد کی طرف ہم نے ان کے بھائی ھود کو مبعوث کیا اور ثمود کی طرف ان کے بھائی صالح کو مبعوث کیا اور مدین کی طرف ان کے بھائی شعیب کو مبعوث کیا۔گویا ی ھود، صالح اور شعیب سب کے سب اپنی قوم کی نظروں میں ایسا مقام رکھتے تھے کہ وہ ان کے حالات زندگی سے پوری طرح واقف تھے۔اسی طرح حضرت صالح کے متعلق آتا ہے کہ جب انہوں نے خدا تعالیٰ کے احکام بیان