انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 27 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 27

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۷ دیباچہ تفسیر القرآن ایک کنعانی عورت وہاں کی سرزمین سے نکل کر اسے پکارتی ہوئی چلی آئی کہ اے خداوند داؤد کے بیٹے ! مجھ پر رحم کر کہ میری بیٹی ایک دیو کے غلبہ سے بے حال ہے۔اس نے کچھ جواب نہ دیا۔تب اس کے شاگردوں نے پاس آکر اس کی منت کی کہ اسے رخصت کر ، کیونکہ وہ ہمارے پیچھے چلاتی ہے۔اس نے جواب میں کہا میں اسرائیل کے گھر کی کھوئی ہوئی بھیڑوں کے سوا اور کسی کے پاس نہیں بھیجا گیا۔پھر وہ آئی اور سجدہ کر کے کہا۔اے خدا وند ! میری مدد کر۔اس نے جواب دیا کہ مناسب نہیں کہ لڑکوں کی روٹی لے کر کتوں کو پھینک دیویں۔،، اسی طرح حضرت مسیح نے اپنے حواریوں کو یہ تعلیم دی کہ :۔وہ چیز جو پاک ہے کتوں کو مت دو اور اپنے موتی سؤروں کے آگے مت پھینکو۔ایسا نہ ہو کہ وے انہیں پامال کریں اور پھر کر تمہیں پھاڑیں۔‘۹ ویدوں کے ماننے والوں میں وید اس حد تک ہندوستان کی اونچی ذاتوں کے ساتھ مخصوص کر دیے گئے تھے کہ گوتم جو تمام ہندو قوم اور سناتن دھرم کا تسلیم شدہ شارح قانون ہے لکھتا ہے کہ: شود را گر وید کوسن لے تو راجہ سیسے اور لاکھ سے اس کے کان بھر دے۔وید منتروں کا اچارن ( تلاوت ) کرنے پر اُس کی زبان کٹوادے۔اور اگر دید کو پڑھ لے تو اس کا جسم ہی کاٹ دے۔۱۰ اسی طرح خود وید میں غیر قوموں کے لئے جو تعلیم موجود ہے وہ نہایت ہی شدید اور سخت ہے۔رگوید میں ویدک دھرم کے مخالفین کو کتا قرار دیتے ہوئے یہ بددعا کی گئی ہے کہ: ” اے آگ دیوتا! تو ان بُرے کتوں ( مخالفین) کو دور لے جا کر باندھ ,, دے لے اتھرو وید میں بھی یہ تعلیم دی گئی ہے کہ غیر ویدک دھرمی لوگوں کو جکڑ کر اُن کے گھروں کو کوٹ لینا چاہئے۔چنانچہ لکھا ہے کہ:۔”اے ویدک دھر میں لو گو تم جیتے جیسے بن کر اپنے مخالفین کو باندھ لو اور پھر ان کے