انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 368 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 368

انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۶۸ ۳۸۳ دیباچهتفسیر القرآن میں سے ہر قسم کے رخنوں کو دُور کرے۔اگر تم یہ دعائیں کرو گے تو خدا تعالیٰ ضرور تمہاری کی دعاؤں کو سنے گا۔اسی طرح آپ نے فرمایا خدا تعالیٰ نے اپنے بندے سے کہا کہ خواہ تم ہمارے پاس آ جاؤ اور خواہ تم دنیا کی اصلاح کا کام بھی کچھ اور مدت کرو۔خدا کے اس بندے نے جواب میں کہا کہ مجھے آپ کے پاس آنا زیادہ پسند ہے۔جب آپ نے یہ بات مجلس میں سنائی تو حضرت ابو بکر رو پڑے۔صحابہ کو تعجب ہوا کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم تو اسلام کی فتوحات کی خبر سنا ر ہے اور ابو بکر ر و ر ہے ہیں۔حضرت عمر کہتے ہیں میں نے کہا اس بڑھے کو کیا ہو گیا کہ یہ خوشی کی خبر پر روتا ہے ! مگر رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم سمجھتے تھے کہ ابو بکر ہی آپ کی بات کو صحیح سمجھتا ہے اور اُس نے یہ سمجھ لیا ہے کہ اس سورۃ میں میری وفات کی خبر ہے۔آپ نے فرمایا ابو بکر کی مجھ کو بہت ہی پیارا ہے۔اگر اللہ تعالیٰ کے سوا کسی سے غیر محدود پیار کرنا جائز ہوتا تو میں ابوبکر سے ایسا ہی پیار کرتا۔اے لوگو! مسجد میں جتنے لوگوں کے دروازے کھلتے ہیں آج سے سب دروازے بند کر دیئے جائیں صرف ابو بکر کا دروازہ کھلا رہے۔اس میں یہ پیشگوئی تھی کہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد حضرت ابوبکر خلیفہ ہوں گے اور نماز پڑھانے کے لئے مسجد میں اس راستہ سے آنا پڑے گا۔اس واقعہ کے مدتوں بعد جب حضرت عمر خلیفہ تھے ایک دفعہ آپ مجلس میں بیٹھے ہوئے تھے کہ آپ نے فرما یا بتا ؤ إذا جاء نصر الله والفتح والی سورۃ میں سے کیا مطلب نکلتا ہے؟ گویا اس مضمون کے متعلق آپ نے اپنے ہم مجلسوں کا امتحان لیا جس کے سمجھنے سے وہ اس سورۃ کے نزول کے وقت قاصر رہے تھے۔ابن عباس جو اس واقعہ کے وقت دس گیارہ برس کے تھے اُس وقت کوئی ۱۷۔۱۸ سال کے نوجوان تھے۔باقی صحابہ تو نہ بتا سکے ابن عباس نے کہا اے امیر المؤمنین ! اس سورۃ میں رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی وفات کی خبر دی گئی ہے کیونکہ نبی جب اپنا کام کر لیتا ہے ہے تو پھر دنیا میں رہنا پسند نہیں کرتا۔حضرت عمرؓ نے کہا سچ ہے میں تمہاری ذہانت کی داد دیتا تھ ہوں۔۳۸۴ے جب یہ سورۃ نازل ہوئی ابوبکر اس کا مفہوم سمجھے مگر ہم نہ سمجھ سکے۔آخر وہ دن آگیا جو ہر انسان پر آتا ہے۔محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم اپنا کام دنیا میں ختم کر چکے ، خدا کی وحی تمام و کمال نازل ہو چکی ،محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی قوت قدسیہ سے