انوارالعلوم (جلد 20) — Page 366
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۶۶ دیباچہ تفسیر القرآن دوسرے کے حقوق پر چھاپے مارنا اور ایک دوسرے کی جان اور مال کو اپنے لئے جائز سمجھنا جو ہمیشہ ہی بداخلاقی کے زمانہ میں انسان کی سب سے بڑی لعنت ہوتا ہے آپ نے نہ چاہا کہ جب تک اس روح کو کچل نہ دیں اور جب تک بنی نوع انسان کی جانوں اور ان کے مالوں کو وہی تقدس اور وہی حرمت نہ بخش دیں جو خدا تعالیٰ کے مقدس مہینوں اور خدا تعالیٰ کے مقدس اور با برکت مقاموں کو حاصل ہے آپ اس دنیا سے گزر جائیں۔کیا عورتوں کی ہمدردی ، ماتحت لوگوں کی ہمدردی ، بنی نوع انسان میں امن اور آرام کے قیام کی خواہش اور بنی نوع انسان میں مساوات کے قیام کی خواہش اتنی شدید دنیا کے کسی اور انسان میں پائی جاتی ہے؟ کیا آدم سے لے کر آج تک کسی انسان نے بھی بنی نوع انسان کی ہمدردی کا ایسا جذبہ اور ایسا جوش دکھایا ہے ہے؟ یہی وجہ ہے کہ اسلام میں آج تک عورت اپنی جائیداد کی مالک ہے۔جبکہ یورپ نے اس درجہ کو اسلام کے تیرہ سو سال بعد حاصل کیا ہے۔یہی وجہ ہے کہ اسلام میں داخل ہونے والا ہر شخص دوسرے کے برابر ہو جاتا ہے خواہ وہ کیسی ہی ادنی اور ذلیل سمجھی جانے والی قوم سے تعلق رکھتا ہو۔حریت اور مساوات کا جذ بہ صرف اور صرف اسلام نے ہی دنیا میں قائم کیا ہے اور ایسے رنگ میں قائم کیا ہے کہ آج تک بھی دنیا کی دوسری قومیں اس کی مثال پیش نہیں کر سکتیں۔ہماری مسجد میں ایک بادشاہ اور ایک معزز ترین مذہبی پیشوا اور ایک عامی برابر ہیں ان میں کوئی فرق اور امتیاز قائم نہیں کر سکتا۔جبکہ دوسرے مذاہب کے معبد بڑوں اور چھوٹوں کے امتیاز کو اب تک ظاہر کرتے چلے آئے ہیں۔گو وہ قو میں شاید حریت اور مساوات کا دعویٰ مسلمانوں سے بھی زیادہ بلند آواز سے کر رہی ہیں۔آنحضرت ﷺ کی وفات جب اس سفر سے آپ واپس آرہے تھے ، تو راستہ میں پھر آپ نے اپنے صحابہ کو اپنی وفات کی خبر دی۔آپ نے فرمایا اے لوگو ! میں تمہاری طرح کا ایک آدمی ہوں قریب ہے کہ اللہ تعالیٰ کا پیغامبر میری طرف آئے اور مجھے اُس کا جواب دینا پڑے۔پھر فرمایا اے لوگو! مجھے میرے مہربان اور خبر دار آقا نے خبر دی ہے کہ نبی اپنے سے پہلے نبی کی نصف عمر پاتا ہے ( رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو بتایا گیا تھا کہ حضرت عیسی علیہ السلام کی عمر ۱۲۰ سال کے قریب تھی اور اس سے آپ