انوارالعلوم (جلد 20) — Page 25
انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۵ دیباچہ تفسیر القرآن تَنَصَّرَ فِي الْجَاهِلِيَّةِ وَكَانَ يَكْتُبُ كِتَابَ الْعِبْرَانِي فَيَكْتُبُ مِنَ الْإِنْجِيلِ بِالْعِبْرَانِيَّةِ مَا شَاءَ اللَّهُ اَنْ يَكتُب سے یعنی ورقہ بن نوفل نے جاہلیت میں عیسائیت اختیار کر لی تھی اور وہ عبرانی سے عربی میں انا جیل کا ترجمہ کیا کرتے تھے۔ہے۔عرب کے دوسرے کنارے پر ایرانی آباد تھے اور وہ بھی ایک نبی اور ایک کتاب کے ماننے والے تھے۔زرتشت نبی کی کتاب ژند اوستا گوانسانی دستبرد کا شکار ہو چکی تھی لیکن تاہم لاکھوں انسانوں کا مرجع عقیدت بنی ہوئی تھی اور ایک زبر دست حکومت اس کے قانون کی اتباع کی کی مدعی تھی۔ہندوستان میں وید ہزاروں سالوں سے لوگوں کی عقیدت کا مرجع بنے ہوئے تھے اور کرشن جی کی گیتا اور بدھ کی تعلیم مزید برآں تھیں۔چین میں کنفیوشس ازم کا زور تھا اور بدھ مذہب بھی اپنے پاؤں پھیلا رہا تھا ان کتابوں اور ان تعلیموں کے ہوتے ہوئے کیا کسی نئی کی کتاب کی ضرورت تھی؟ یہ ایک سوال ہے جو قرآن کریم کے دیکھتے ہی ہر شخص کے دل میں پیدا ہوتا ہے یا پیدا ہونا چاہئے۔اس سوال کا جواب کئی رنگ سے دیا جاسکتا ہے اول: کیا یہ اختلاف مذاہب خود اس بات کی دلیل نہ تھا کہ ان سب مذاہب کو متحد کرنے کے لئے کوئی اور مذہب آنا چاہئیے ؟ دوم کیا انسانی دماغ اسی طرح ارتقاء کی منزلوں کو طے کرتا ہوا نہیں جا رہا تھا جس طرح انسانی جسم نے کسی زمانہ میں ارتقاء کی منزلیں طے کی تھیں۔پھر کیا جس طرح جسم کی ارتقائی منزلیں ایک مقام پر پہنچ کر ایک مستقل صورت اختیار کر گئیں اسی طرح کیا روح اور دماغ کی کے لئے بھی ضروری نہ تھا کہ وہ ارتقائی منزلیں طے کرتے ہوئے ایک ایسی منزل پر پہنچے جو انسانی پیدائش کا مقصود تھی ؟ سوم: کیا پہلی کتب میں کوئی ایسا نقص تو نہیں آ گیا تھا جس کی وجہ سے دنیا کو شدید طور پر ایک نئی کی کتاب کی ضرورت محسوس ہو رہی تھی اور قرآن کریم اس ضرورت کو پورا کرنے والا تھا ؟ چهارم : کیا سابق مذاہب اپنی تعلیم کو حتمی اور آخری قرار دے رہے تھے یا وہ خود بھی ایک ارتقاء کے قائل تھے اور روحانیت کی ترقی کے لئے ایک ایسے نقطہ کی خبر دے رہے تھے جس پر جمع ہو کر بنی نوع انسان کو انسانی پیدائش کا مقصد حاصل کرنا تھا؟