انوارالعلوم (جلد 20) — Page 351
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۵۱ دیباچہ تفسیر القرآن حمل ضائع ہو گیا اور کچھ عرصہ کے بعد وہ فوت ہوگئیں۔علاوہ اور جرائم کے یہ جرم بھی اس کو قتل کا مستحق بناتا تھا۔یہ شخص بھی رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی خدمت میں حاضر ہوا اور اس نے کہا اے اللہ کے نبی ! میں آپ سے بھاگ کر ایران کی طرف چلا گیا تھا پھر میں نے خیال کیا کہ اللہ تعالیٰ نے اپنے نبی کے ذریعہ سے ہمارے شرک کے خیالات کو دور کیا ہے اور ہمیں روحانی ہلاکت سے بچایا ہے میں غیر لوگوں میں جانے کی بجائے کیوں نہ اس کے پاس جاؤں اور اپنے گناہوں کا اقرار کر کے اُس سے معافی مانگوں۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے کہا۔ہبار ! جب خدا نے تمہارے دل میں اسلام کی محبت پیدا کر دی ہے تو میں تمہارے گنا ہوں کو کیوں نہ معاف کروں۔جاؤ میں نے تمہیں معاف کیا اسلام نے تمہارے سب پہلے قصور مٹا دیئے ہیں۔۳۶۹ اس جگہ اتنی گنجائش نہیں کہ میں اس مضمون کو لمبا کروں ورنہ ان خطر ناک مجرموں میں سے جن کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے معمولی معذرت پر معاف فرما دیا اکثر کے واقعات ایسے دردناک اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے رحم کو اتنا ظاہر کرنے والے ہیں کہ ایک سنگدل انسان بھی ان سے متاثر ہوئے بغیر نہیں رہ سکتا۔جنیں چونکہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کا مکہ میں داخلہ اچانک ہوا اس لئے مکہ سے ذرا فاصلے پر جو قبائل رہتے تھے خصوصاً وہ جو جنوب کی طرف رہتے تھے انہیں مکہ پر حملہ کی خبر اُسی وقت ہوئی جب آپ مکہ میں داخل ہو چکے تھے۔اس خبر کے سنتے ہی انہوں نے اپنی فوجیں جمع کرنی شروع کر دیں اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے مقابلہ کی تیاری کرنے لگے۔ہوازن اور ثقیف دو عرب قبیلے اپنے آپ کو خاص طور پر بہادر خیال کرتے تھے انہوں نے فوراً آپس میں مشورہ کر کے اپنے لئے ایک سردار چن لیا اور مالک بن عوف نامی ایک شخص کو اپنا کی رئیس مقرر کر لیا۔اس کے بعد اُنہوں نے ارد گرد کے قبائل کو دعوت دی کہ وہ بھی ان کے ساتھ آکر شامل ہو جا ئیں۔انہی قبائل میں بنو سعد بن بکر بھی تھے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی دائی حلیمہ اسی قبیلہ میں سے تھی اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے بچپن کی عمر اسی قبیلہ میں گزاری تھی۔یہ لوگ جمع ہو کر مکہ کی طرف روانہ ہوئے اور انہوں نے اپنے ساتھ اپنے مال اور اپنی کی بیویوں اور اپنی اولادوں کو بھی لے لیا۔جب ان کے سرداروں سے پوچھا گیا کہ انہوں نے ایسا کی غزوہ