انوارالعلوم (جلد 20) — Page 337
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۳۷ دیباچہ تفسیر القرآن بدلہ لیں۔چنانچہ مکہ کے قریش اور بنو بکر نے مل کر رات کو بنی خزاعہ پر چھاپا مارا اور ان کے بہت سے آدمی مار دیئے۔خزاعہ کو جب معلوم ہوا کہ قریش نے بنو بکر سے مل کر یہ حملہ کیا ہے تو انہوں نے اس عہد شکنی کی اطلاع دینے کے لیے چالیس آدمی تیز اونٹوں پر فوراً مدینہ کو روانہ کئے اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے مطالبہ کیا کہ باہمی معاہدہ کی رو سے اب آپ کا فرض ہے کہ ہمارا بدلہ لیں اور مکہ پر چڑھائی کریں۔جب یہ قافلہ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے پاس پہنچا تو آپ نے فرمایا تمہارا دُکھ میرا دکھ ہے میں اپنے معاہدہ پر قائم ہوں۔یہ بادل جو سامنے برس رہا ہے ( اُس وقت بارش ہو رہی تھی ) جس طرح اس میں سے بارش ہو رہی ہے اسی طرح جلدی ہی تمہاری مدد کے لئے اسلامی فوجیں پہنچ جائیں گی۔جب مکہ والوں کو اس وفد کا علم ہوا تو وہ بہت گھبرائے اور انہوں نے ابوسفیان کو مدینہ روانہ کیا، تا کہ وہ کسی طرح مسلمانوں کو حملہ سے باز رکھے۔ابوسفیان نے مدینہ پہنچ کر رسول صلی اللہ علیہ وسلم پر زور دینا شروع کیا کہ چونکہ صلح حدیبیہ کے وقت میں موجود نہ تھا اس لئے نئے سرے سے معاہدہ کیا جائے۔لیکن رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اس کی بات کا کوئی جواب نہ دیا۔کیونکہ جواب دینے سے راز ظاہر ہو جاتا تھا۔ابوسفیان نے مایوسی کی حالت میں گھبرا کر مسجد میں کھڑے ہو کر اعلان کیا اے لوگو! میں مکہ والوں کی کی طرف سے نئے سرے سے آپ لوگوں کے لئے امن کا اعلان کرتا ہوں۔۳۴۹ یہ بات سن کر مسلمان اُس کی بیوقوفی پر ہنس پڑے اور سول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا۔ابوسفیان ! یہ بات تم یکطرفہ کہہ رہے ہو ہم نے کوئی ایسا معاہدہ تم سے نہیں کیا۔رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اسی دوران میں چاروں طرف مسلمان قبائل کی طرف پیغامبر بجھوا دیئے اور جب یہ اطلاعیں آچکیں کہ مسلمان قبائل تیار ہو چکے ہیں اور مکہ کی طرف کوچ کرتے ہوئے راستہ میں ملتے جائیں گے تو آپ نے مدینہ کے لوگوں کو مسلح ہونے کا حکم کی دیا۔جنوری ۶۳۰ء کی پہلی تاریخ کو یہ لشکر مدینہ سے روانہ ہوا اور راستہ میں چاروں طرف مسلمان قبائل آ آ کر لشکر میں شامل ہوتے گئے۔چند ہی منزلیں طے کرنے کے بعد جب یہ لشکر فاران کے جنگل میں داخل ہوا تو اس کی تعداد سلیمان نبی کی پیشگوئی کے مطابق دس ہزار تک پہنچ چکی تھی۔ادھر تو یہ لشکر مکہ کی طرف مارچ کرتا چلا جا رہا تھا اور اُدھر مکہ والے اس خاموشی کی وجہ