انوارالعلوم (جلد 20) — Page 324
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۲۴ دیباچہ تفسیر القرآن بارہ میں دعا کی ہے۔پس مسلمانوں میں اسلامی طور و طریق جاری کرو اور ان کے اموال کی حفاظت کرو اور چار بیویوں سے زیادہ کسی کو اپنے گھر میں رکھنے کی اجازت نہ دو اور مسلمان ہونے والوں سے جو گناہ پہلے ہو چکے ہیں وہ انہیں معاف کئے جائیں اور جب تک نیکی پر قائم رہو گے تمہیں اپنی حکومت سے معزول نہیں کیا جائے گا اور جو یہودی یا مجوس ہیں ان پر صرف ایک ٹیکس مقرر ہے اور کوئی مطالبہ ان سے نہ کرنا۔۳۳۸ اس کے علاوہ آپ نے عمان کے بادشاہ اور یمامہ کے سردار اور غسان کے بادشاہ اور یمن کے قبیلہ بنی نہد کے سردار اور یمن کے قبیلہ ہمدان کے سردار اور بنی علیم کے سردار اور حضرمی قبیلہ کے سردار کی طرف بھی خطوط لکھے۔جن میں سے اکثر لوگ مسلمان ہو گئے۔ان خطوط کا لکھنا بتاتا ہے کہ آپ خدا تعالیٰ پر کیسا کامل یقین رکھتے تھے اور کس طرح شروع سے ہی آپ کو یہ یقین تھا کی کہ آپ کسی ایک قوم کی طرف نبی بنا کر نہیں بھیجے گئے بلکہ آپ ساری اقوام کی طرف نبی بنا کر نے گئے ہیں اس میں کوئی شبہ نہیں کہ جن بادشاہوں اور رئیسوں کو خط لکھے گئے تھے ان میں سے بعض اسلام لے آئے۔بعضوں نے ادب اور احترام کے ساتھ خط تو قبول کر لئے لیکن اسلام نہ لائے۔بعضوں نے معمولی شرافت دکھائی اور بعضوں نے خود پسندی اور کبر کا نمونہ دکھایا لیکن اس میں بھی کوئی شبہ نہیں اور دنیا کی تاریخ اس پر شاہد ہے کہ اُن میں سے ہر بادشاہ اور قوم کے ساتھ ویسا ہی معاملہ کیا گیا جیسا کہ اُس نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خطوں کے ساتھ معاملہ کیا تھا۔قلعہ خیبر کی تسخیر جیسا کہ اوپر بیان کیا جا چکا ہے یہودی اور کفارِ عرب مسلمانوں کے خلاف اردگرد کے قبائل کو اُبھار رہے تھے اور اب یہ دیکھ کر کہ عرب میں اتنی سکت باقی نہیں رہی کہ وہ مسلمانوں کو تباہ کر سکیں یا مدینہ پر جا کر حملہ کر سکیں۔یہودیوں نے ایک طرف تو رومی حکومت کی جنوبی سرحد پر رہنے والے عرب قبائل کو جو مذ ہبا عیسائی تھے، اکسانا شروع کیا تج اور دوسری طرف اپنے ان ہم مذہبوں کو جو عراق میں رہتے تھے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے خلاف چٹھیاں لکھنی شروع کیں تا کہ وہ کسری کو مسلمانوں کے خلاف بھڑکا ئیں۔میں یہ بھی اُوپری لکھ چکا ہوں کہ اس شرارت کے نتیجہ میں کسری مسلمانوں کے خلاف سخت بھڑک گیا تھا اور اُسے