انوارالعلوم (جلد 20) — Page 300
انوار العلوم جلد ۲۰ ۳۰۰ دیباچہ تفسیر القرآن تھا تو تمہیں یہ نہیں کہنا چاہئے کہ نہیں تمہاری جنگی تیاری بتاتی ہے کہ تم ہم پر حملہ کرنا چاہتے تھے ہم کس طرح سمجھیں کہ ہم تم سے مامون اور محفوظ ہیں بلکہ اُس کی بات کو قبول کر لو اور یہ سمجھو کہ اگر پہلے اُس کا ارادہ بھی تھا تو ممکن ہے بعد میں اس میں تبدیلی پیدا ہوگئی ہو۔تم خود اس بات کے زندہ گواہ ہو کہ دلوں میں تبدیلی پیدا ہو جاتی ہے تم پہلے اسلام کے دشمن تھے مگر اب تم اسلام کے سپاہی ہو۔(1) پھر دشمنوں سے عہد کے متعلق فرماتا ہے إِلَّا الَّذِينَ عَاهَدَ ثُمْ مِّن الْمُشْرِكِينَ ثُمَّ لَمْ يَنْقُصُوكُمْ شَيْئًا وَلَمْ يُظَاهِرُوا عَلَيْكُمْ أَحَدًا فَاتِمُّوا إليهِمْ عَهْدَهُمْ إِلَى مُدَّتِهِمْ، إِنَّ اللهَ يُحِبُّ الْمُتَّقِينَ ٣٠٨ یعنی مشرکوں میں سے وہ جنہوں نے تم سے کوئی عہد کیا تھا اور پھر انہوں نے اُس عہد کو تو ڑا نہیں اور تمہارے خلاف تمہارے دشمنوں کی مدد نہیں کی ، عہد کی مدت تک تم بھی پابند ہو کہ معاہدہ کو قائم رکھو۔یہی تقویٰ کی علامت ہے اور اللہ تعالیٰ متقیوں کو پسند کرتا ہے۔(۷) ایسے دشمنوں کے متعلق جو برسر جنگ ہوں لیکن اُن میں سے کوئی شخص اسلام کی حقیقت معلوم کرنا چاہے فرماتا ہے ان احد من المُشْرِكِينَ اسْتَجَارَكَ فَاجِرَهُ حَتَّى مِّنَ يَسْمَع كَلمَ اللهِ ثُمَّ ابْلِغْهُ مَا مَنَه : ۳۰۹ یعنی اگر بر سر جنگ مشرکوں میں سے کوئی شخص اس لئے پناہ مانگے کہ وہ تمہارے ملک میں آکر اسلام کی تحقیقات کرنا چاہتا ہے تو اُس کو ضرور پناہ دو اتنے عرصہ تک کہ وہ اچھی طرح اسلام کی تحقیقات کر لے اور قرآن کریم کے مضامین سے واقف ہو جائے۔پھر اس کو اپنی حفاظت میں اُس مقام تک پہنچا دو جہاں وہ جانا چاہتا ہے اور جسے اپنے لئے امن کا مقام سمجھتا ہے۔(۸) جنگی قیدیوں کے متعلق فرماتا ہے ان لِنَبِي أَن يَكُونَ لَه أشرى حتى يثخن في الأرض - - ا س یعنی کسی نبی کی شان کے مطابق یہ بات نہیں کہ وہ اپنے دشمن کے قیدی بنالے۔سوائے اس کے کہ باقاعدہ جنگ میں قیدی پکڑے جائیں۔یعنی یہ رواج جو اُس زمانہ تک بلکہ اس کے بعد بھی صدیوں تک دنیا میں قائم رہا ہے کہ اپنے دشمن کے آدمیوں کو بغیر جنگ کے ہی پکڑ کر قید کر لینا جائز سمجھا جاتا تھا اُسے اسلام پسند نہیں کرتا۔وہی