انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 290 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 290

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۹۰ دیا چه تفسیر القرآن پیشکش سے وہ فوراً ہی نئی امنگوں اور نئی آرزوؤں میں بدل جاتی اور یہ سمجھا جاتا کہ مسلمان با وجود مدینہ کو تباہی سے بچا لینے کے آخری کامیابی سے مایوس ہو چکے تھے۔پس صلح کی تحریک مسلمانوں کی طرف سے کسی صورت میں بھی نہیں کی جاسکتی تھی۔اگر کوئی صلح کی تحریک کر سکتا تھا تو یا مکہ والے کر سکتے تھے یا کوئی تیسری ثالث قوم کر سکتی تھی۔مگر عرب میں کوئی ثالث قوم باقی نہیں رہی تھی۔ایک طرف مدینہ تھا اور ایک طرف سارا عرب تھا۔پس عملی طور پر کفار ہی تھے جو اس کی تجویز کو پیش کر سکتے تھے۔مگر اُن کی طرف سے صلح کی کوئی تحریک نہیں ہو رہی تھی۔یہ حالات اگر سو سال تک بھی جاری رہتے تو قوانین جنگ کے ماتحت عرب کی خانہ جنگی جاری رہتی۔پس جبکہ مکہ کے لوگوں کی طرف صلح کی تجویز پیش نہیں ہوئی تھی اور مدینہ کے کفار عرب کی ماتحتی ماننے کے لئے کسی صورت میں تیار نہ تھے تو اب ایک ہی راستہ کھلا رہ جاتا تھا کہ جب مدینہ نے عرب کے متحدہ حملہ کو بریکار کر دیا تو خود مدینہ کے لوگ باہر نکلیں اور کفار عرب کو مجبور کر دیں کہ یا وہ اُن کی ماتحتی قبول کر لیں یا اُن سے صلح کر لیں۔اور اسی راستہ کو رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے اختیار کیا۔پس گو یہ راستہ بظاہر جنگ کا نظر آتا ہے لیکن در حقیقت صلح کے قیام کے لئے اس کے سوا کوئی راستہ کھلا نہ تھا۔اگر رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم ایسا نہ کرتے تو ممکن ہے جنگ سو سال تک لمبی چلی جاتی جیسا کہ ایسے ہی حالات میں پرانے زمانہ میں جنگیں سو سو سال تک جاری رہی ہیں۔خو د عرب کی کئی جنگیں تھیں تمھیں ، چالیس چالیس سال تک جاری رہی ہیں۔ان جنگوں کی طوالت کی یہی وجہ معلوم ہوتی ہے کہ جنگ کے ختم کرنے کے لئے کوئی ذریعہ اختیار نہیں کیا جاتا تھا اور جیسا کہ میں بتا چکا ہوں جنگ کے ختم کرنے کے دو ہی ذرائع ہوا کرتے ہیں یا ایسی جنگ لڑی جائے جو دوٹوک فیصلہ کر دے اور دونوں فریق میں سے کسی ایک کو ہتھیار ڈالنے پر مجبور کرتی دے اور یا با ہمی صلح ہو جائے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم بیشک ایسا کر سکتے تھے کہ مدینہ میں بیٹھے رہتے اور خود حملہ نہ کرتے۔لیکن چونکہ کفار عرب جنگ کی طرح ڈال چکے تھے آپ کے اموش بیٹھنے کے یہ معنی نہ ہوتے کہ جنگ ختم ہو گئی ہے بلکہ اس کے صرف یہ معنی ہوتے کہ جنگ کا دروازہ ہمیشہ کیلئے کھلا رکھا گیا ہے۔کفار عرب جب چاہتے بغیر کسی اور محرک کے پیدا ہونے کے مدینہ پر حملہ کر دیتے اور اُس وقت تک کے دستور کے مطابق وہ حق پر سمجھے جاتے کیونکہ جنگ میں