انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 269 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 269

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۶۹ دیباچہ تفسیر القرآن کیلئے دس دس آدمیوں کے سپرد کر دیا اور اس طرح قریباً ایک میل لمبی خندق کھدوائی۔جب خندق کھودی جارہی تھی تو زمین میں سے ایک ایسا پتھر نکلا جو کسی طرح لوگوں سے ٹوٹتا نہیں تھا۔صحابہ نے رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو اس بات کی خبر دی تو آپ وہاں خود تشریف لے گئے۔اپنے ہاتھ میں کدال پکڑا اور زور سے اُس پتھر پر مارا۔کدال کے پڑنے سے اس پتھر میں سے روشنی نکلی اور آپ نے فرمایا۔اللہ اکبر۔پھر دوبارہ آپ نے کدال مارا تو پھر روشنی نکلی پھر آپ نے فرمایا۔اللہ اکبر۔پھر آپ نے تیسری دفعہ کدال مارا اور پھر پتھر سے روشنی نکلی اور ساتھ ہی پتھر ٹوٹ گیا۔اس موقع پر پھر آپ نے فرمایا۔اللهُ أَكْبَرُ۔صحابہ نے آپ سے پوچھا۔يَا رَسُولَ الله ! آپ نے تین دفعہ اللہ اکبر کیوں فرمایا ؟ آپ نے فرمایا پتھر پر کدال پڑنے سے تین دفعہ جو روشنی نکلی تو تینوں دفعہ خدا نے مجھے اسلام کی آئندہ ترقیات کا نقشہ دکھایا۔پہلی دفعہ کی روشنی میں مملکت قیصر کے شام کے محلات دکھائے گئے اور اُس کی کنجیاں مجھے دی گئیں ، دوسری دفعہ کی روشنی میں مدائن کے سفید محلات مجھے دکھائے گئے اور مملکت فارس کی کنجیاں مجھے دی گئیں، تیسری دفعہ کی روشنی میں صنعاء کے دروازے مجھے دکھائے گئے اور مملکت یمن کی کنجیاں مجھے دی گئیں۔۲۷۹ پس تم خدا کے وعدوں پر یقین رکھو دشمن تمہارا کچھ نہیں بگاڑ سکتا۔یہ تھوڑے سے آدمی اتنی لمبی خندق فوجی اصول کے مطابق تو نہیں کھود سکتے تھے۔پس یہ خندق اتنا ہی فائدہ دے سکتی تھی کہ دشمن اچانک اندر نہ گھس آئے ورنہ اس خندق سے پار ہونا دشمن کیلئے ناممکن نہیں تھا۔چنانچہ آئندہ جو واقعات بیان ہوں گے اُن سے ایسا ہی ثابت ہوتا ہے کہ دشمن نے بھی مدینہ کے حالات کو مدنظر رکھ کر اُسی طرف سے حملہ کرنے کا فیصلہ کیا ہوا تھا۔چنانچہ دشمن کا لشکر جرار اسی طرف سے مدینہ میں داخل ہونے کیلئے آگے بڑھا۔رسول کریم ہے کو اس کی اطلاع ہوئی تو آپ نے بھی کچھ لوگوں کو شہر کے دوسرے حصوں کی حفاظت کیلئے مقرر کر دیا اور بقیہ آدمیوں کو ساتھ لے کر جو بارہ سو کے قریب تھے خندق کی حفاظت کیلئے تشریف لے گئے۔غزوہ خندق کے وقت اسلامی اس موقع پر مسلمانوں کے لشکر کی تعداد کے بارہ میں مؤرخین میں سخت اختلاف ہے۔بعض لوگوں لشکر کی اصل تعداد کیا تھی ؟ نے اس لشکر کی تعداد تین ہزارکھی ہے بعض نے