انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 241 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 241

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۴۱ دیباچہ تفسیر القرآن ساتھیوں کا حوالہ تو اُن لوگوں نے خود ہی دے دیا تھا حضرت مسیح کے حواریوں نے دشمن کے مقابلہ میں جونمونہ دکھایا انجیل اس پر گواہ ہے۔ایک نے تو چند روپوں پر اپنے اُستاد کو بیچ دیا۔دوسرے نے اُس پر لعنت کی اور باقی دس اُس کو چھوڑ کر ادھر سے اُدھر بھاگ گئے مگر محمد رسول اللہ صلی اللہ وسلم کے ساتھی صرف ڈیڑھ سال کی صحبت کے بعد ایمان میں اتنے پختہ ہو گئے کہ وہ اُن کے کہنے پر سمندر میں کو دنے کے لئے بھی تیار تھے۔یہ مشورہ محض اس غرض سے تھا تا کہ جو لوگ ایمان کے کمزور ہوں اُن کو واپس جانے کی اجازت دے دی جائے لیکن جب مہاجرین و انصار نے ایک دوسرے سے بڑھ کر اخلاص اور ایمان کا نمونہ دکھایا اور دونوں فریق نے اس بات پر آمادگی ظاہر کی کہ وہ خدا کے وعدوں کے با وجود تعداد میں دشمن سے ایک تہائی ہونے کے اور باوجودسامانوں کے لحاظ سے دشمنوں سے کئی گنا کم ہونے کے بے غیرتی دکھاتے ہوئے جنگ سے پیٹھ نہیں دکھا ئیں گے بلکہ خدا تعالیٰ کے دین کی غیرت کا مظاہرہ کرتے ہوئے میدانِ جنگ میں خوشی سے جان دے دیں گے۔تو آپ آگے بڑھے۔جب آپ بدر کے مقام پر پہنچے تو ایک صحابی کے مشورہ سے دشمن کے قریب جا کر بدر کے چشمہ پر اسلامی لشکر اُتار دیا گیا۔لیکن اس طرح گوپانی پر تو قبضہ ہو گیا مگر وہ میدان جو مسلمانوں کے حصہ میں آیا بوجہ ریتلا ہونے کے جنگی حرکات کے لئے سخت نقصان دہ ثابت ہوا اور صحا بہ گھبرا گئے۔رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم ساری رات دعا کرتے رہے اور بار بار خدا تعالیٰ سے یہ عرض کرتے تھے کہ اے میرے رب ! ساری دنیا کے پردہ پر صرف یہی لوگ تیری عبادت کرنے والے ہیں۔اے میرے رب! اگر یہ لوگ آج اس لڑائی میں مارے گئے تو تیرا نام لینے والا اس دنیا میں کون باقی رہے گا۔۲۴۹ اللہ تعالیٰ نے آپ کی دعاؤں کو سنا اور رات کو بارش ہو گئی جس کا نتیجہ یہ ہوا کہ جس میدان کچھ میں وہ مسلمان تھے بوجہ ریتلا ہونے کے بارش کی وجہ سے جم گیا اور وہ میدان جو کفار کے قبضہ میں تھا بوجہ چکنی مٹی کا ہونے کے بارش کی وجہ سے نہایت پھسلواں ہو گیا۔شاید کفار مکہ نے باوجود اُس میدان میں مسلمانوں سے پہلے پہنچ جانے کے اِس لئے اُس میدان کو چنا تھا کہ پختہ مٹی کی وجہ سے اُس میں جنگی حرکات بڑی آسانی کے ساتھ ہو سکتی تھیں اور سامنے کا