انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 216 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 216

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱۶ تفسیر القرآن دعوی کو سنا آپ کی سچائی اُن کے دلوں میں گھر کر گئی اور اُنہوں نے کہا یہ تو وہی نبی معلوم ہوتا ہے جس کی یہودی ہمیں خبر دیا کرتے تھے۔پس بہت سے نو جوان محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی تعلیم کی سچائی سے متاثر ہوئے اور یہودیوں سے سنی ہوئی پیشگوئیاں اُن کے ایمان لانے میں مؤید ہوئیں۔چنانچہ اگلے سال حج کے موقع پر پھر مدینہ کے لوگ آئے۔بارہ آدمی اس دفعہ مدینہ سے یہ ارادہ کر کے چلے کہ وہ محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے دین میں داخل ہو جائیں گے۔ان میں سے دس خزرج قبیلہ کے تھے اور دو اوس کے۔مٹی میں وہ آپ سے ملے اور اُنہوں نے آپ کے ہاتھ پر اس بات کا اقرار کیا کہ وہ سوائے خدا کے اور کسی کی پرستش نہیں کریں گے ، وہ چوری نہیں کریں گے ، وہ بدکاری نہیں کریں گے ، وہ اپنی لڑکیوں کو قتل نہیں کریں گے، وہ ایک دوسرے پر جھوٹے الزام نہیں لگائیں گے، نہ وہ خدا کے نبی کی دوسری نیک تعلیمات میں نافرمانی کریں گے۔۲۲۲ یہ لوگ واپس آگئے تو انہوں نے اپنی قوم میں اور بھی زیادہ زور سے تبلیغ شروع کر دی۔مدینہ کے گھروں میں سے بت نکال کر باہر پھینکے جانے لگے۔بتوں کے آگے سر جھکانے والے لوگ اب گرد نہیں اُٹھا کر چلنے لگے۔خدا کے سوا اب لوگوں کے ماتھے کسی کے سامنے جھکنے کے لئے تیار نہ تھے۔یہودی حیران تھے کہ صدیوں کی دوستی اور صدیوں کی تبلیغ سے جو تبدیلی وہ نہ پیدا کر سکے اسلام نے وہ تبدیلی چند دنوں میں پیدا کر دی۔توحید کا وعظ مدینہ والوں کے دلوں میں گھر کرتا جاتا تھا۔یکے بعد دیگرے لوگ آتے اور مسلمانوں سے کہتے ہمیں اپنا دین سکھاؤ۔لیکن مدینہ کے نو مسلم نہ تو خود اسلام کی تعلیم سے پوری طرح واقف تھے اور نہ اُن کی تعداد اتنی تھی کہ وہ سینکڑوں اور ہزاروں آدمیوں کو اسلام کے متعلق تفصیل سے بتا سکیں اس لئے اُنہوں نے مکہ میں ایک آدمی بجھوایا اور مبلغ کی درخواست کی اور رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم نے مصعب نامی ایک صحابی کو جو حبشہ کی ہجرت سے واپس آئے تھے مدینہ میں تبلیغ اسلام کے لئے بھجوایا۔مصعب مکہ سے باہر پہلا اسلامی مبلغ تھا۔انہی ایام میں خدا تعالیٰ نے محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کو آئندہ کے لئے پھر ایک زبر دست بشارت دی۔آپ کو ایک کشف میں بتایا گیا کہ آپ یروشلم گئے ہیں اور نبیوں نے آپ کی اقتداء میں نماز پڑھی۔۲۲۳ یروشلم کی تعبیر مدینہ تھا ، جو آئندہ کے لئے خدائے واحد کی اسراء