انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 212 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 212

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱۲ دیباچهتفسیر القرآن بے انتہاء کرم کرنے والا اور بار بار رحم کرنے والا ہے میں یہ لیتا ہوں تو عیسائیت کی یاد اُس کے دل میں پھر تازہ ہو گئی۔اُس نے محسوس کیا کہ اُس کے سامنے خدا کا ایک نبی بیٹھا ہے جو اسرائیلی نبیوں کی سی زبان میں باتیں کرتا ہے۔اس سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم نے پوچھا تم کہاں کے رہنے والے ہو؟ جب اُس نے کہا نینوا کا۔تو آپ نے فرمایا وہ نیک انسان یونس جو متی کا بیٹا تھا اور نینوا کا باشندہ وہ میری طرح خدا کا ایک نبی تھا۔پھر آپ نے اُس کو اپنے مذہب کی تبلیغ شروع کی۔عداس کی حیرانی چند ہی لمحوں میں تعجب سے بدل گئی۔تعجب ایمان میں تبدیل ہو گیا اور تھوڑی ہی دیر میں وہ اجنبی غلام آنسوؤں سے بھری ہوئی آنکھوں کے ساتھ رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے لپٹ گیا اور آپ کے سر اور ہاتھوں اور پیروں کو بوسہ دینے لگا۔۲۱۶ عداس کی باتوں سے فارغ ہو کر آپ اللہ تعالیٰ کی طرف مخاطب ہوئے اور آپ نے خدا سے یوں دعا مانگی۔اللَّهُمَّ إِلَيْكَ اَشْكُرُ ضُعْفَ قُوَّتِى وَقِلَّةَ حِيْلَتِي وَ هَوَ انِي عَلَى النَّاسِ يَا اَرحَمَ الرَّاحِمِينَ اَنْتَ رَبُّ الْمُسْتَضْعَفِينَ وَأَنْتَ رَبِّي إِلَى مَنْ تَكِلُنِي إِلَى بَعِيدٍ يَتَجَهَّمُنِى أَمْ إِلَى عَدُوّ مَلَكْتَهُ اَمْرِى إِنْ لَّمْ يَكُنُ بِكَ عَلَيَّ غَضَبٌ فَلَا أبَالِي وَلَكِنْ عَافِيَتُكَ هِيَ اَوْسَعُ لِى - اَعُوذُ بِنُورِ وَجُهِكَ الَّذِي أَشْرَقَتْ لَهُ الظُّلَمْتُ وَصَلَحَ عَلَيْهِ اَمْرُ الدُّنْيَا وَالْآخِرَةِ مِنْ أَنْ تُنَزِّلَ بِي غَضَبَكَ أَوْ يَحِلَّ عَلَيَّ سَخَطُكَ لَكَ الْعُقْبِى حَتَّى تَرْضَى وَلَا حَوْلَ وَلَاقُوَّةَ إِلَّا بِكَ عَالِ یعنی اے میرے رب ! میں تیرے ہی پاس اپنی کمزوریوں اور اپنے سامانوں کی کمی اور لوگوں کی نظروں میں اپنے حقیر ہونے کی شکایت کرتا ہوں۔لیکن تو غریبوں اور کمزوروں کا خدا ہے اور تو میرا بھی خدا ہے تو مجھے کس کے ہاتھوں میں چھوڑے گا۔کیا اجنبیوں کے ہاتھوں میں جو مجھے ادھر ادھر دھکیلتے پھریں گے یا اُس دشمن کے ہاتھ میں جو میرے وطن میں مجھ پر غالب ہے۔اگر تیرا غضب مجھ پر نہیں تو مجھے ان دشمنوں کی کوئی پرواہ نہیں۔تیرا رحم میرے ساتھ ہے اور تیری عافیت میرے لئے زیادہ وسیع ہے۔میں تیرے چہرہ کی روشنی میں پناہ چاہتا ہوں۔یہ تیرا ہی کام ہے کہ تو تاریکی کو