انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 211 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 211

انوار العلوم جلد ۲۰ ۲۱۱ دیباچهتفسیر القرآن قبول کرنے کے لئے تیار نہ ہوا۔عوام الناس نے بھی اپنے رؤساء کی اتباع کی اور خدا کے پیغام کو حقارت کی نگاہ سے دیکھا۔دنیا داروں کی نگاہ میں بے سامان اور بے مدد گار نبی حقیر ہی ہوا کرتا ہے وہ تو اسلحہ اور فوجوں کی آواز سنا جانتے ہیں آپ کی نسبت با تیں تو پہنچ ہی چکی تھیں جب آپ طائف پہنچے اور انہوں نے دیکھا کہ بجائے اس کے کہ آپ کے ساتھ کوئی فوج اور جتھا ہوتا ہی آپ صرف زید ہی کی ہمراہی میں طائف کے مشہور حصوں میں تبلیغ کرتے پھرتے ہیں تو دل کے اندھوں نے اپنے سامنے خدا کا نبی نہیں بلکہ ایک حقیر اور دھتکارا ہوا انسان پایا اور سمجھے کہ شاید اس کو دکھ دینا اور تکلیف پہنچا نا قوم کے رؤساء کی نظروں میں ہم کو معزز کر دے گا۔وہ ایک دن جمع ہوئے ، کتے انہوں نے اپنے ساتھ لئے ، لڑکوں کو اُکسایا اور پتھروں سے اپنی جھولیاں بھر لیں اور بیدردی سے رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو پتھراؤ کرنا شروع کیا۔وہ رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کو شہر سے دھکیلتے ہوئے باہر لے گئے۔آپ کے پاؤں لہولہان ہو گئے اور زیڈ آپ کو بچاتے ہوئے سخت زخمی ہوئے مگر ظالموں کا دل ٹھنڈا نہ ہوا وہ آپ کے پیچھے چلتے گئے اور چلتے گئے جب تک شہر سے کئی میل ڈور کی پہاڑیوں تک آپ نہ پہنچ گئے انہوں نے آپ کا پیچھا نہ چھوڑا۔جب یہ لوگ آپ کا پیچھا کر رہے تھے تو آپ اس ڈر سے کہ خدا تعالیٰ کا غضب ان پر نہ بھڑک اُٹھے آسمان کی طرف نظر اٹھا کر دیکھتے اور نہایت الحاح سے دعا کرتے۔الہی ! ان لوگوں کو معاف کر کہ یہ نہیں جانتے کہ یہ کیا کر رہے ہیں۔۲۱۵ زخمی ، تھکے ہوئے اور دنیا کے لوگوں کی طرف سے دھتکارے ہوئے آپ ایک انگورستان کے سایہ میں پناہ گزیں ہوئے۔یہ انگورستان مکہ کے دوسر داروں کا تھا۔یہ سردار اُس وقت اس کی انگورستان میں تھے پرانے اور شدید دشمن جنہوں نے دس سال تک آپ کی مخالفت میں اپنی کی زندگی گزاری تھی شاید اُس وقت اس بات سے متاثر ہو گئے کہ ایک مکہ کے آدمی کو طائف کے لوگوں نے زخمی کیا ہے یا شاید وہ گھڑی ایسی گھڑی تھی جب نیکی کا بیج اُن کے دلوں میں سر اٹھا رہا تھا اُنہوں نے ایک تھال انگوروں کا بھرا اور اپنے غلام عداس کو کہا کہ جاؤ اور ان مسافروں کو اسے دو۔عداس نینوا کا رہنے والا ایک عیسائی تھا۔جب اُس نے یہ انگور محمد رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کے سامنے پیش کئے اور آپ نے یہ کہتے ہوئے اُن انگوروں کو لیا کہ خدا کے نام پر جو