انوارالعلوم (جلد 20) — Page 53
انوار العلوم جلد ۲۰ یہودی اور ۵۳ دیبا چه تفسیر القرآن اور عیسائی علماء کا عزرا کے حافظہ کے متعلق یہ خیال تھا تھا تو یہودی اور عیسائیوں کے عوام الناس اور دوسری اقوام کے لوگ اس پر کیا تسلی پاسکتے ہیں اور جس کتاب کی سند ایسی ہو وہ روحانی معاملات میں کیونکر لوگوں کی تشفی کا موجب ہو سکتی ہے ۔ ہے۔ اندرونی شہادت کہ موجودہ اب میں بائبل کی اندورنی شہادت کو لیتا ہوں کہ وہ تو رات اصلی تو رات نہیں بھی اس بات پر دلالت کرتی ہے موجودہ تورات حضرت اس بات پر موسی علیہ السلام پر نازل شدہ کتاب نہیں۔ اسر ہ اس بارہ میں سب سے اہم اور واضح وہ دلیل ہے جو استثناء باب ۳۴ میں حضرت موسی کی وفات کو بیان کرتی ہے۔ اس آیت میں لکھا ہے: سوخداوند کا بندہ موسیٰ خداوند کے حکم کے موافق موآب کی سرزمین میں مر گیا اور اُس نے اُسے موآب کی ایک وادی میں بیت فغور کے مقابل گا ڑا، پر آج کے دن تک کوئی اُس کی قبر کو نہیں جانتا ۔ ۵۳ یہ آیت صاف بتا رہی ہے کہ اس کا مضمون حضرت موسیٰ علیہ السلام کے سینکڑوں سال بعد استثناء میں بڑھایا گیا ہے بھلا کون عقلمند یہ تسلیم کر سکتا ہے کہ اللہ تعالیٰ نے موسی کو الہام میں فرمایا ہو کہ آج تک تمہاری قبر کوئی نہیں جانتا ۔ کیا کسی زندہ انسان سے ایسا کلام کیا جا سکتا ہے؟ اور پھر کیا آج تک“ کا لفظ اس بارہ میں خود سے کو مخاطب کر کے کہا جا سکتا ہے؟ پھر آیت ۸ میں لکھا ہے: سو بنی اسرائیل موسی کے لئے موآب کے میدانوں میں تمیں دن تک رویا گئے وو اور ان کے رونے پیٹنے کے دن موسیٰ کے لئے آخر ہوئے۔ ۵۴ یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ یہ موسیٰ کا کلام نہیں ۔ موسیٰ کی کتاب میں بعد میں داخل کیا گیا ہے۔ پھر آیت ۱۰ میں لکھا ہے : اب تک بنی اسرائیل میں موسیٰ کی مانند کوئی نبی نہیں آیا جس سے خدا وند آمنے سامنے آشنائی کرتا۔ یہ آیت بھی بتاتی ہے کہ یہ حضرت موسیٰ کا الہام نہیں بلکہ ان کی وفات کے کئی سو سال بعد کسی نے یہ آیت حضرت موسیٰ کی کتاب میں داخل کی ہے ممکن ہے وہ عزرا ہی ہوں اور ممکن ہے