انوارالعلوم (جلد 20) — Page 609
انوار العلوم جلد ۲۰ ۶۰۹ ہندوستان کے احمدیوں کے نام پیغام اصلاح کا کام جتنا اہم تھا اتنا ہی آج ہندوستان کی اصلاح کا کام اہم ہے۔جن لوگوں کو خدا تعالیٰ نے قادیان کی چھوٹی سی بستی کو بڑھا کر ایک سعی و عمل کا ٹھاٹھیں مارتا ہوا سمندر بنانے کی توفیق بخشی وہ بھی انسان تھے اور آپ بھی انسان ہیں آپ اپنے آپ کو افراد کی حقیقت میں دیکھنا چھوڑ دیں۔خدا تعالیٰ فرماتا ہے کہ اِنَّ اِبْرٰهِيْمَ كَانَ أُمَّةً ل ابراہیم ایک امت تھا۔جو لوگ خدا تعالیٰ پر نظر رکھتے ہوئے اس کی عائد کردہ ذمہ داریوں کو سمجھتے ہیں وہ اپنے آپ کوفردسمجھنا چھوڑ دیتے ہیں۔ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اُمت سمجھتا ہے اور ان میں سے بعض شخص تو اپنے آپ کو دنیا سمجھتے ہیں۔آپ لوگ بھی اور وہ دوسرے دوست بھی جو اس وقت باہر سے قادیان میں تشریف لا سکے ہوں وہ بھی آج سے اپنا نقطہ نگاہ بدل دیں۔آج سے ان میں سے ہر شخص اپنے آپ کو اُمت سمجھنے لگ جائے۔وہ یہ سمجھ لے کہ جس طرح آم کی گٹھلی میں سے ایک بڑا درخت پیدا ہوتا ہے، جس طرح بڑ کے چھوٹے سے بیج میں سے سینکڑوں آدمیوں کو سایہ دینے والا پیدا ہو جاتا ہے ، اسی طرح وہ اُمت بن کر رہے گا۔وہ ہندوستان کے گوشہ گوشہ میں اپنی نسلیں پھیلا دے گا۔وہ خاموش قربانی کی جگہ اب اصلاح کیلئے اپنی قربانی کو پیش کرے گا۔ہندوستان اس بات کا متقاضی ہے کہ اس کے اندر پھر سے انسانیت کو قائم کیا جائے۔پھر سے صلح اور آشتی کو قائم کیا جائے پھر سے خدا تعالیٰ کی محبت اس کے دل میں پیدا کی جائے اور یہ کام سوائے آپ لوگوں کے اور کوئی نہیں کر سکتا۔عزم صمیم کے ساتھ اُٹھیں۔طوفان کا سا جوش لے کر اُٹھیں اور ہندوستان پر چھا جائیں جس کا نتیجہ ضرور یہ نکلے گا کہ وہ لوگ جو آج احمدیت کو بغض اور کینہ کی نگاہ سے دیکھتے ہیں اور ایک دشمن کی حیثیت میں دیکھتے ہیں وہ اور ان کی نسلیں آپ لوگوں کے ہاتھ چومیں گی۔آپ لوگوں کیلئے برکتیں مانگیں گی اور دعائیں دیں گی کہ آپ لوگ اس بدقسمت ملک کو امن دینے والے اور صلح اور آشتی کی طرف لانے والے ثابت ہوئے۔احمدیت ایک نور ہے، احمدیت صلح کا پیغام ہے،احمدیت امن کی آواز ہے، تم اس نور سے دنیا کو منور کر و۔تم اس پیغام کی طرف لوگوں کو بلاؤ تم اس آواز کو دنیا کے گوشہ گوشہ میں بلند کر دو۔خدا تمہارے ساتھ ہو۔خاکسار مرزا محمود احمد اعلی ۱۰ النحل: ۱۲۱ ۲۰ دسمبر ۱۹۴۸ء