انوارالعلوم (جلد 20)

by Hazrat Mirza Bashir-ud-Din Mahmud Ahmad

Page 580 of 654

انوارالعلوم (جلد 20) — Page 580

انوار العلوم جلد ۲۰ ۵۸۰ احمدیت کا پیغام با قاعدہ نمازی ہے۔شراب وغیرہ کے قریب نہیں جاتا۔خود محنت مزدوری سے پیسے کما کر ٹریکٹ وغیرہ شائع کرتا ہے یا جلسے کرتا ہے۔ہم اُسے گزارہ کے لئے اتنی قلیل رقم دیتے ہیں جس سے انگلستان کا ایک چوہڑا بھی زیادہ کماتا ہے۔اسی طرح جرمنی کے ایک شخص نے زندگی وقف کی ہے۔وہ بھی فوجی افسر ہے۔بڑی جدو جہد سے وہ جرمنی سے نکلنے میں کامیاب ہوا ہے۔ابھی اطلاع آئی ہے کہ وہ سوئٹزر لینڈ پہنچ گیا ہے اور وہاں ویزا کا انتظار کر رہا ہے۔یہ نو جوان اسلام کی خدمت کا بے انتہاء جوش اپنے دل میں رکھتا ہے اور اس لئے پاکستان آرہا ہے کہ یہاں اسلام کی تعلیم پوری طرح حاصل کر کے کسی غیر ملک میں اسلام کی تبلیغ کرے۔جرمنی کا ایک اور ی نوجوان مصنف اور اس کی تعلیم یافتہ بیوی زندگی وقف کرنے کا ارادہ ظاہر کر رہے ہیں اور شاید ی عنقریب ہی وہ اس فیصلہ پر پہنچ کر پاکستان تعلیم اسلام کے لئے آجائیں گے۔اسی طرح ہالینڈ کا ایک نو جوان اسلام کے لئے اپنی زندگی وقف کرنے کا ارادہ کر چکا ہے اور غالباً جلد ہی کسی نہ کسی ملک میں تبلیغ اسلام کے کام پر لگ جائے گا۔بیشک جماعت احمد یہ تھوڑی ہے لیکن دیکھنا یہ ہے کہ اس کے ذریعہ سے جماعت اسلامی قائم ہورہی ہے۔ہر ملک میں کچھ نہ کچھ افراد اس میں شامل ہو کر ایک عالمگیر اتحاد کی بنیا درکھ رہے ہیں اور ہر سیاست کے ماننے والے لوگوں میں سے کچھ نہ کچھ آدمی اس میں شامل ہو رہے ہیں۔ایسی تحریکوں کی ابتداء شروع میں چھوٹی ہی ہوا کرتی ہے۔لیکن ایک وقت میں جا کر وہ ایک فوری قوت حاصل کر لیتی ہیں اور چند دنوں میں اتحاد اور اتفاق کا بیج بونے میں کامیاب ہو جاتی ہیں۔ظاہر ہے کہ سیاسی طاقت کے لئے سیاسی جماعتوں کی ضرورت ہے اور مذہبی اور اخلاقی طاقت کے لئے مذہبی اور اخلاقی جماعتوں کی ضرورت کی ہے۔جماعت احمد یہ سیاست سے اسی لئے الگ رہتی ہے کہ اگر وہ ان باتوں میں دخل دے تو وہ اپنے کام میں سست ہو جائے۔۔جماعت احمدیہ کا پروگرام دوسراسوال پروگرام کا رہا۔پروگرام کے لحاظ سے بھی جماعت احمدیہ ہی ایک متحدہ پروگرام رکھتی ہے اور کوئی جماعت متحدہ پروگرام نہیں رکھتی۔جماعت احمد یہ عیسائیت کے حملہ کا پورا اندازہ لگا کر ہر ملک میں اس کا مقابلہ کر رہی ہے۔اس وقت دنیا کا سب سے کمزور خطہ اور بعض لحاظ سے